خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 46

خطابات شوری جلد سوم ۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء نہ کرلوں۔یہ روح ہے جو ہم میں سے ہر فرد کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔اور یہی وہ روح ہے جس کے پیدا ہونے کے بعد یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ ہمیں اپنے کاموں کے لئے ایک کروڑ روپیہ کی ضرورت ہے یا دو کروڑ روپیہ کی۔صرف نیت اور ارادہ کی دیر ہے۔اگر نیت درست ہو، اگر ارادہ میں پختگی ہو، اگر ایمان میں مضبوطی ہو تو کوئی روک مقابل میں نہیں آسکتی۔ہاں اگر ایمان ہی نہ ہو یا ارادے ہی کوتاہ ہوں تو پھر بے شک کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہو گی۔مگر سچی بات یہ ہے کہ کروڑوں روپیہ بھی اُس وقت تک کام نہیں دے سکتا جب تک ایمان کی چنگاری انسانی روح کو گرما نہ رہی ہو اور جب تک ایمان کی حرارت اُس کے قلب کو زندہ نہ رکھ رہی ہو۔میں سمجھتا ہوں پانچ ہزار مبلغین کا رکھنا گو بظاہر بڑا مشکل نظر آتا ہے لیکن میرے نزدیک ہمارے پاس پانچ ہزار مبلغین سے بھی زیادہ مبلغ رکھنے کے سامان موجود ہیں صرف نیت اور ارادہ کی ضرورت ہے۔اگر سچی نیت کر لی جائے اور خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اُس کے دین کی خدمت کا کام شروع کیا جائے تو اللہ تعالیٰ غیب سے برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور ایسی ایسی جگہوں سے کامیابی کے سامان مہیا کرتا ہے جو انسانی واہمہ اور خیال میں بھی نہیں ہوتیں۔یہ ہماری کمزوری ہوتی ہے کہ ہم قربانی کرنے سے پہلے سوچتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔گویا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کام ہماری کوششوں سے ہوگا حالانکہ جو کچھ کرنا ہے خدا نے کرنا ہے بندوں کو تو وہ محض ثواب دینے کے لئے شمولیت کا موقع عطا فرما دیتا ہے۔زندگی کا یادگار واقعہ مجھے اپنی زندگی کے چند نہایت ہی پسند یدہ خیالوں میں سے جن کو میں اپنی ہزاروں نمازوں اور ہزاروں روزوں اور ہزاروں قربانیوں اور ہزاروں چندوں سے بڑھ کر سمجھتا ہوں اپنا وہ واقعہ ہمیشہ یاد رہتا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انتقال ہوا اور جماعت کے ایک حصہ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب نہ معلوم کیا ہوگا۔میری عمر اُس وقت اٹھارہ سال کی تھی۔جب میں نے بعض لوگوں کی زبان سے اس قسم کے فقرات سنے تو میں اُس کمرہ میں گیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جسد اطہر چار پائی پر پڑا تھا اور میں نے آپ کے سرہانے