خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 605
خطابات شوری جلد سوم رت ۱۹۵۶ء اس موقع پر تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ کا ذکر نہ کروں۔یہ لوگ واقف زندگی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور ہر سال وقف میں طلباء بھجواتے ہیں۔پچھلے سالوں میں بھی انہوں نے اس بارہ میں کام کیا ہے اور بڑی تعداد میں طلباء وقف کے لئے بھجواتے رہے ہیں۔اس سال بھی اُنہوں نے اس بارہ میں بہت کچھ کیا ہے وہ بالعموم ۲۰۔۲۵ طلباء ہر سال وقف کراتے ہیں۔اگر اُنہوں نے اپنی کوششوں کو تیز تر کر دیا تو ممکن ہے ہر سال سو ڈیڑھ سو طلباء وقف کے لئے مل جائیں۔پھر یہ سوال پیدا ہو گا کہ ان طلباء کو وظیفہ کہاں سے دیا جائے گا کیونکہ دینیات کلاسز میں بالعموم وہی نو جوان آتے ہیں جو دوسرے کالجوں میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ دوسرے کالجوں کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ انہیں برداشت نہیں کر سکتے۔اس وقت سلسلہ دس پندرہ طلباء ہر سال لیتا ہے مگر ان کو پڑھانے پر سات سال لگ جاتے ہیں۔گویا جو سات آٹھ طلباء اب صدر انجمن کو ملیں گے وہ بھی سات سال کی تعلیم کے بعد ملیں گے۔پس آپ اپنے بچوں میں وقف کی تحریک کریں اور ان میں تبلیغ کا احساس پیدا کریں۔میرے پاس ایک نوجوان آیا اور اُس نے کہا کہ میں اپنی زندگی وقف کرنا چاہتا ہوں۔میں نے اُس سے دریافت کیا کہ تمہیں زندگی وقف کرنے کا خیال کس طرح پیدا ہوا اور یہ بھی دریافت کیا کہ تم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو؟ اُس نے اپنے نانا کا نام لیا اور کہا کیا آپ انہیں جانتے ہیں۔میں نے کہا ہاں۔اُس نے کہا میں ان کا نواسہ ہوں۔میں نے کہا ان کی تو ایک لڑکی قادیان آیا کرتی تھی۔اس پر اُس نے کہا کہ وہ میری والدہ تھیں۔میرے نانا کو تو احمدیت قبول کرنے کی توفیق نہ ملی مگر میری والدہ احمدی ہوگئی تھیں اور ان میں دین کی خدمت کا جذبہ اس قدر پایا جاتا تھا کہ جونہی میں نے ہوش سنبھالی ، اُنہوں نے میرے کان میں یہ بات ڈالنی شروع کی کہ میں نے تمہیں دین کی خدمت کے لئے وقف کرنا ہے۔میں نے بڑے ہو کر تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد مجھے ایک اچھی ملازمت مل گئی لیکن جب کبھی مجھے اپنی والدہ کا خیال آتا اُن کی وہ بات یاد آ جاتی کہ میں نے تمہیں دین کی خدمت کے لئے وقف کرنا ہے چنانچہ اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ میں اپنی والدہ کی خواہش کو پورا کروں گا۔میں نے اپنے باپ سے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے۔اُنہوں نے بھی کہا ہے کہ تم