خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 604

خطابات شوری جلد سوم ۶۰۴ درت ۱۹۵۶ء ربیان کی تیاری اور ان سے مربیان سلسلہ کے سائر اخراجات میں اضافہ کا مسئلہ مشاورت میں زیر بحث آیا۔چند ممبران کام لینے کے سلسلہ میں ہدایات نے اس بارہ میں اپنی آراء پیش کیں۔اس موقع پر حضور نے حقیقت حال واضح کرتے ہوئے فرمایا : - نمائندگان نے اس وقت جو تقاریر کی ہیں اُن میں زیادہ تر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مربیوں کا سفر خرچ کم رکھا گیا ہے اور اشارہ اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ ۳۵ مربی تھوڑے ہیں۔نمائندگان کو یا د رکھنا چاہئے کہ جب تک کوئی نو جوان شاہد کلاس پاس نہ کرے اُسے مربی مقرر نہیں کیا جا سکتا۔آخر مربیوں کی تعداد کو فوری طور پر بڑھانے کے لئے یہ تو نہیں کیا جاسکتا کہ جو بھی رستہ میں ملے اُسے مربی بنا دیا جائے۔جبری فوجی بھرتی میں سینہ اور قد ناپ لیا جاتا ہے اور انسان کو بھرتی کر لیا جاتا ہے لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ہمیں مربی بنانے کے لئے دیکھنا پڑتا ہے کہ اُس نے سلسلہ کی تعلیمی درسگاہوں میں مکمل تعلیم حاصل کی یا نہیں۔اس وقت جامعتہ المبشرین کی آخری کلاس میں ۱۶ طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔جن میں سے آٹھ صدر انجمن احمدیہ نے لے لینے ہیں اور آٹھ تحریک جدید نے لے لینے ہیں۔گویا صدر انجمن احمدیہ کو صرف آٹھ شاہد مل سکتے ہیں۔پس مربیوں کی تعداد میں فوری طور پر زیادتی ایک ناممکن امر ہے۔جب تک نوجوان شاہد کلاس پاس کر کے نہیں نکلتے محض ریزولیوشن پاس کرنے سے کچھ نہیں بن سکتا۔اگر صدرانجمن احمد یہ عام لوگوں کو بھرتی کر کے انہیں مربی بنا دے تو پھر آپ کہیں گے کہ وہ شخص تو معمولی آدمیوں سے بھی ہار جاتا ہے، اس کا کیا فائدہ۔تحریک وقت زندگی اور والدین کی ذمہ داری پیس مربوں کی تعداد صرف اسی وقت بڑھے گی جب آپ لوگ اپنی اولادوں کو وقف کریں گے اور انہیں یہاں پڑھنے کے لئے بھیجیں گے۔اس وقت تعلیم کیلئے آنے والے واقفین کا یہ حال ہے کہ پچھلے سال صرف ایک طالب علم جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کے لئے آیا تھا۔اس کے بعد آپ لوگ کس طرح اُمید کر سکتے ہیں کہ مرکز زیادہ سے زیادہ مربی آپ لوگوں کے لئے بھجوا سکے۔میں سمجھتا ہوں یہ ناشکری ہوگی کہ میں۔