خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 593
خطابات شوری جلد سوم ۵۹۳ رت ۱۹۵۶ء وہاں کے مبلغ نے اطلاع دی ہے کہ اب وہ لیکچر کے لئے گلاسگو جا رہے ہیں۔اس طرح اُنہوں نے لکھا ہے کہ میں ایک اور یونیورسٹی میں لیکچر دینے گیا۔اس یونیورسٹی میں ہماری بہت مخالفت کی جاتی تھی لیکن جب میں وہاں گیا تو ہال بھرا ہوا تھا۔بعض لوگوں نے مجھے بتایا کہ جب لیکچر کا اعلان ہوا تو یہودیوں نے بڑی مخالفت کی اور اعلان کیا کہ اس لیکچر میں کوئی نہ جائے۔ہم نے کہا کہ اگر یہودی اس لیکچر کی مخالفت کرتے ہیں تو ہم ضرور جائیں گے۔اب اطلاع آئی ہے کہ کسی اور یو نیورسٹی نے بھی انہیں اپنے ہاں لیکچر کے لئے بلایا ہے۔غرض وہاں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اب ایک رو پیدا ہوگئی ہے اور اچھے اچھے خاندانوں میں احمدیت کی تبلیغ ہو رہی ہے۔احمدیت کے غلبہ کا وقت جب آئے گا، آئے گا لیکن اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔دیکھ لو یہاں الیکشن میں کوئی احمدی کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہار جاتا ہے۔پچھلے الیکشن میں احرار نے اعلان کیا تھا کہ ہماری مخالفت کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ انتخاب میں ایک بھی احمدی کامیاب نہیں ہو سکا لیکن چند دن ہوئے ، میرے پاس ایک ایم۔ایل۔اے۔آئے۔میں نے اُن کے نام کے آگے ایم۔ایل۔اے۔کا لفظ دیکھ کر دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے بتایا میں اسمبلی کا ممبر ہوں۔میں نے کہا الیکشن تو شورش میں ہوئے تھے، پھر آپ کیسے ایم۔ایل۔اے۔بن گئے۔کیا آپ کے علاقہ میں مولوی نہیں گئے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں بھی مولوی گئے تھے اور انہوں نے میرے خلاف پروپیگنڈا بھی کیا تھا لیکن میری قوم کے لوگ کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے کہا کہ یہ شخص کافر ہے تو کافر ہی سہی ہماری قوم کا فرد تو ہے ہم بہر حال اسے ووٹ دیں گے۔سیلون سے بھی خط آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ایسے طبقہ سے بھی بعض لوگ احمدیت قبول کر رہے ہیں جن کے متعلق اُمید ہے کہ وہ اپنے ملک کی اسمبلی کے الیکشن میں کامیاب ہو جائیں گے۔مغربی افریقہ میں بھی ہمارے چار دوست وہاں کی اسمبلی کے ممبر ہیں۔بہر حال اگر پاکستان میں ہماری جماعت کے دوستوں کے لئے مشکلات ہیں اور وہ اسمبلی کے انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو باہر کے ممالک میں ہمارے غلبہ کے آثار