خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 592
خطابات شوری جلد سوم ۵۹۲ رت ۱۹۵۶ء میرے پاس آئی ہے، وہ کوئی نہ کوئی خوشخبری اپنے ساتھ لائی ہے۔ملایا سے خبر آئی ہے کہ وہاں ایک بڑے افسر نے احمدیت قبول کر لی ہے مگر ساتھ ہی اُس نے کہا ہے کہ میری بیعت کو فی الحال مخفی رکھا جائے کیونکہ مجھے اُمید ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں میں ملک میں کوئی اہم پوزیشن حاصل کرلوں گا۔اس طرح جرمنی میں ہمبرگ یونیورسٹی کے ایک مشہور پروفیسر ہیں جو مشرقی زبانوں کے ماہر ہیں۔یونیورسٹی نے انہیں اسلام پر ایک کتاب لکھنے کے لئے بھی مقرر کیا ہے اُنہوں نے ایک جرمن رسالہ میں ایک اہم مضمون لکھا تھا جس پر امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ نے انہیں مبارکباد دی اور لکھا کہ میں نے اب تک جرمن کے کسی رسالہ میں اتنا قیمتی مضمون نہیں پڑھا۔وہ پروفیسر جرمنی میں میری آمد کی خبر سُن کر مجھے ملنے کے لئے آ گیا اور کہنے لگا میں نے آپ سے بعض مخفی باتیں کرنی ہیں آپ اپنے سیکرٹری اور دوسرے ساتھیوں کو ذرا کمرہ سے باہر بھیج دیں۔چنانچہ میں نے اپنے سیکرٹری اور دوسرے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کچھ دیر کے لئے کمرہ سے باہر چلے جائیں۔جب وہ کمرہ سے باہر چلے گئے تو اُس نے کہا میں آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ اسے فی الحال مخفی رکھا جائے۔میں نے کہا بہت اچھا، بیعت کے مخفی رکھنے میں کوئی حرج نہیں چنانچہ اُس نے بیعت کر لی۔جب نماز کا وقت آیا تو میں اُس کمرہ میں گیا جو نماز کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ وہ پروفیسر بھی مقتدیوں میں بیٹھا ہوا ہے۔میں نے اپنے مبلغ کو پاس بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ تم نے تو اپنی بیعت کو مخفی رکھنے کے لئے کہا تھا اور اب خود ہی نماز میں شامل ہو گئے ہو ، اب تمہاری بیعت مخفی کس طرح رہ سکتی ہے؟ مبلغ نے دریافت کیا تو وہ کہنے لگا کہ بے شک میں نے اپنی بیعت مخفی رکھنے کی درخواست کی تھی لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ شاید خدا تعالیٰ انہیں میری خاطر ہی جرمنی میں لایا ہے۔پھر نہ معلوم یہ موقع نصیب ہو یا نہ ہو۔اس لئے میں نے کہا کہ آپ کی اقتداء میں چند نمازیں تو پڑھ لوں۔اب خط آیا ہے کہ وہ دو تین ماہ کے لئے ربوہ آکر دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔اسی طرح انگلینڈ سے بھی خوش کن خبریں آرہی ہیں۔وہاں ہمارا مشن دیر سے قائم ہے لیکن اب وہاں کی یو نیورسٹیاں بھی ہمارے مبلغ کو اپنے ہاں بلاتی اور اسلام پر لیکچر کراتی ہیں۔