خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 594

خطابات شوری جلد سوم ۵۹۴ رت ۱۹۵۶ء ظاہر ہو رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تم اپنے کام کو دیانت داری سے کرو اور اپنی زمینوں کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کرو۔وہ دن قریب آ رہے ہیں جب خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے لئے کامیابی کے راستے کھول دے گا۔ہماری جماعت سیاسی جماعت نہیں لیکن چند دنوں سے جماعت کے بعض دوستوں کو متواتر خوابیں آ رہی ہیں کہ ہم قادیان گئے ہیں۔چنانچہ ۳۰۔۳۱ جنوری ۱۹۵۶ء کی درمیانی شب کو مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو خواب آئی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اگلے سال جون یا جولائی کے مہینہ میں قادیان جائیں گے۔پھر میرا بھانجا عباس احمد قادیان گیا تو وہاں ایک سکھ نے اُس سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں، آپ بہت جلد قادیان آنے والے ہیں۔اُنہوں نے دریافت کیا کہ تمہیں اس کا کیسے علم ہو !؟ اُس نے کہا میں نے خواب دیکھا ہے کہ کنگیں پکنے والی ہیں۔(یعنی گندم پکنے کے دن قریب ہیں ) اور لوگ کہتے ہیں کہ مرزائی واپس آنے والے ہیں۔پھر یہاں کی ایک عورت نے خواب دیکھا کہ گندم پک رہی ہے اور ہم قادیان جا رہے ہیں۔وسیم احمد کا بھی اس کے متعلق قادیان سے ایک خط آیا ہے۔اُس کا پاسپورٹ گورنمنٹ آف انڈیا نے واپس لے لیا تھا۔اُنہی دنوں میں نے خواب میں دیکھا کہ وسیم احمد مجھ سے دُور دُور جا رہا ہے۔اُس کے ساتھ ایک اور نوجوان ہے جس نے فوج یا پولیس کی طرح پگڑی باندھی ہوئی ہے۔وسیم احمد نے جب دیکھا کہ میں اس بات پر حیران ہوں کہ وہ کیوں مجھ سے دور جا رہا ہے تو اُس نے کہا کہ لیلا رام مجھے لے جا رہا ہے۔باقی عِندَ الطَّلَب۔اس خواب سے میں نے سمجھا کہ دعاؤں اور ادھر کی کوششوں کے نتیجہ میں اس کا پاسپورٹ بنے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اُسے پاسپورٹ مل گیا۔بہر حال اُس نے خط میں ایک ہندو سادھو کے متعلق جو امرتسر کا رہنے والا ہے لکھا کہ وہ برما میں آٹھ دس سال تک مالی کا کام کرتا رہا ہے۔اُس نے بتایا کہ میں مالی کا کام اس لئے کرتا تھا کہ مجھے الہاماً بتایا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ سے کام کیا کرو۔پھر اُس نے بتایا کہ مجھے الہام ہوا کہ قادیان جاؤ، وہاں تمہیں روحانیت ملے گی۔وسیم احمد نے لکھا ہے کہ وہ بہت دیر یہاں رہا اور دُعائیں کرتا رہا۔ایک دفعہ اُس نے اِس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ میں بیٹ الدعا میں بیٹھ کر دعا کرنا