خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 580
خطابات شوری جلد سوم ۵۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۵ء پیدا کر دے اور مجھے بھی ایسی صحت بخشے کہ آپ سے مل کر اسلام کی فتح کی بنیادیں رکھ سکوں۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے پچھلے چند دنوں سے میری طبیعت زیادہ خراب ہونے لگ گئی تھی مگر دو دنوں سے پھر بحالی کی طرف قدم جلدی جلدی اُٹھ رہا ہے، چنانچہ اس وقت بھی کہ میں یہ پیغام لکھوا رہا ہوں میں کمرہ میں ٹہل رہا ہوں اور میرے قدم آسانی کے ساتھ چل رہے ہیں۔پہلے جو بیماری کے حملہ کے بعد دماغ خالی خالی معلوم ہوتا تھا کل سے وقفہ وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میں بھی نیک تغیر پیدا ہو رہا ہے اور میں بعض اوقات محسوس کرتا ہوں کہ میں سوچ سکتا ہوں اور پچھلے واقعات کا تسلسل میرے دماغ میں شروع ہو جاتا ہے بلکہ کراچی آتی دفعہ ریل میں ایک سورۃ میرے دماغ میں آئی جس کے بعض حصے لوگوں سے اب تک حل نہیں ہو سکے تھے اور باوجود بیماری کے اس سورۃ کی شرح اور بسط میں نے کرنی شروع کی اور وہ تفسیر عمدگی کے ساتھ حل ہونی شروع ہوگئی۔تب میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے خدا! ابھی دنیا تک تیرا قرآن صحیح طور پر نہیں پہنچا اور قرآن کے بغیر نہ اسلام ہے نہ مسلمانوں کی زندگی تو مجھے پھر سے توفیق بخش کہ میں قرآن کے بقیہ حصہ کی تفسیر کر دوں اور دُنیا پھر ایک لمبے عرصے کے لئے قرآن شریف سے واقف ہو جائے اور اس پر عامل ہو جائے اور اس کی عاشق ہو جائے۔بہر حال آج میری طبیعت پچھلے چند دن سے بہت اچھی معلوم ہوتی ہے کچھ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ سفر کی پریشانیاں جو پیدا ہو رہی تھیں وہ دور ہو رہی ہیں پچھلے دنوں اختر صاحب اور مشتاق احمد صاحب باجوہ جو کام کے لئے جاتے رہے تو اپنی نا تجربہ کاری کی وجہ سے یہ نہیں سمجھتے تھے کہ فورار پورٹ نہ پہنچی تو مجھے صدمہ ہوگا۔دو چار دن کے تجربہ کے بعد میں نے خود اس بات کو محسوس کر لیا اور انہیں ہدایت کر دی کہ جب وہ باہر جایا کریں تو ایک زائد آدمی لے کر جایا کریں اور اسے اس وقت کی رپورٹ دے کر میرے پاس بھجوا دیا کریں تا کہ مجھے پتہ لگتا رہے۔جب سے اس پر عمل ہوگا میری گھبراہٹ اور پریشانی دور ہونی شروع ہو گئی اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے طبیعت میں سکون ہے۔خدا نے یہ بھی فضل کیا ہے کہ جہاز کے ٹکٹوں کے ملنے کے غیر معمولی سامان ہو گئے اور ایکسچینچ کے ملنے کے سامان بھی پیدا ہو گئے۔اس موقع پر اسلامی ملک کے بعض نمائندوں نے غیر معمولی شرافت کا ثبوت دیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے ان کے ملکوں کو عزت اور