خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 581

۵۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۵ء خطابات شوری جلد سوم ترقی بخشے۔اس واقعہ سے طبیعت میں اور بھی زیادہ سکون پیدا ہوگا اور پریشانی دور ہوئی۔خدا کرے کہ مسلمانوں میں پھر سے اتحاد پیدا ہو جائے اور پھر سے وہ گزشتہ عروج کو حاصل کرنے لگ جائیں اور اسلام کے نام میں وہی رُعب پیدا ہو جائے جو آج سے ہزار بارہ سو سال پہلے تھا۔میں اس دن کے دیکھنے کا متمنی ہوں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں۔جب سعودی ، عراقی ، شامی اور لبنانی ، ترک ، مصری اور یمنی سو رہے ہوتے ہیں میں ان کے لئے دعا کر رہا ہوتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ دعائیں قبول ہوں گی۔خدا تعالیٰ ان کو پھر ضائع شدہ عروج بخشے گا اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم ہمارے لئے فخر و مباہات کا موجب بن جائے گی۔خدا کرے جلد ایسا ہو۔میں شوریٰ میں آنے والے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سنجیدگی سے بجٹ اور دوسری باتوں پر غور کریں۔اس سال دس بارہ دن لگا کر میں نے خود بجٹ کوحل کیا ہے اس لئے بجٹ میں دوستوں کو زیادہ تبدیلی نہیں کرنی چاہئے۔میرا خیال ہے کہ میری بیماری کا موجب وہ محنت بھی تھی جو تحریک اور انجمن کے بجٹوں کو ٹھیک کرنے کے لئے مجھے کرنی پڑی۔میں تو بیمار ہو گیا مگر میری محنت کئی سال تک آمد و خرچ کے توازن کو ٹھیک کر دے گی۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کو ان فرائض کے پورا کرنے کی توفیق دے۔جن کا آپ وعدہ کر چکے ہیں اور جن کے بغیر جماعت کی قریب کی ترقی ناممکن ہے۔مرزا محمود احمد خلیلیه اسیح الثانی ۱۹۵۵/۴/۶ء 66 (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۵ء)