خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 574

خطابات شوری جلد سوم کوئی کام بھی مناسب طور پر نہیں کیا جا سکتا۔۵۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء بچوں کو وقف کی تحریک کرو تم اپنے منہ سے تو قربانی ، قربانی قربانی کی آواز بلند کرتے ہو لیکن تم اپنے بیٹوں کو نہیں کہتے کہ سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اور اگر وہ وقف کر کے آجاتے ہیں تو تم خود اُن کو ورغلاتے ہو کہ وہ وقف سے بھاگ جائیں۔تم پہلے اپنے گھر کی قربانی پیش کرو اور پھر بات کرو۔میں کس طرح مان سکتا ہوں کہ تمہارے بیٹے اپنی زندگیاں وقف کرنے کو تیار نہیں ہیں۔میرے تو ۱۳ کے ۱۳ بیٹے اپنی زندگیاں وقف کرنے کے لئے تیار ہو جا ئیں اور تمہارا ایک بیٹا بھی زندگی وقف نہ کرے، میں مان نہیں سکتا۔اگر تم یہ عذر پیش کرتے ہو کہ تمہارے بیٹے زندگی وقف کرنے کے لئے تیار نہیں تو تم جھوٹ بولتے ہو۔آخر میرے۱۳ بیٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں یا نہیں؟ ان میں اس بات کا احساس ہے یا نہیں؟ وہ جانتے ہیں کہ اگر اُنہوں نے وقف چھوڑا تو میں نے ان کی شکل نہیں دیکھنی۔میرے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔آخر دین کی اشاعت ہم نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔تمہارے بیٹوں میں اس قسم کا احساس نہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر تم انہیں زندگی وقف کرنے کی تحریک کرتے ہو تو تم یہ بات دل سے نہیں کر رہے ، صرف ظاہری طور پر اس قسم کی بات کر رہے ہو۔عورتوں کو اُن کے حقوق دو پھر تم اپنے اخلاق درست کرو۔ہماری جماعت میں میاں اور بیوی کے تعلقات اتنے گندے ہو رہے ہیں کہ ایک احمدی کے متعلق یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اُس کے اپنی بیوی سے اس قدر گندے تعلقات ہوں گے۔اس میں شبہ نہیں کہ غیر احمد یوں میں بھی اس قسم کے گندے اخلاق والے لوگ ہوتے ہیں لیکن اُن کا یہ دعویٰ نہیں کہ ہم نے ان اخلاق کو دوبارہ قائم کرنا ہے لیکن تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اسلام کی تعلیم کو دوبارہ قائم کر رہے ہو۔پھر تم میں اس قسم کے گندے اخلاق کیوں ہیں۔بات بات پر طلاق دی جا رہی ہے اور بات بات پر ضلع کرایا جا رہا ہے۔آخر انسانیت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔شادی کے وقت کوئی شخص تمہیں مجبور نہیں کرتا کہ تم ضرور فلاں عورت سے شادی کرو۔شریعت نے تمہیں یہ حق دیا ہے کہ شادی سے قبل تم لڑکی کو دیکھ لو اور اس کے متعلق تحقیقات کر لو اور عورت کو بھی شریعت نے یہ حق دیا ہے