خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 575
خطابات شوری جلد سوم ۵۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء کہ وہ خاوند کو دیکھ لے کے اور اُس کے متعلق تحقیقات کر لے لیکن جب تعلق قائم ہو جاتا ہے تو تمہیں ایک دوسرے کی ایسی باتیں برداشت کرنی پڑیں گی۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے بعض افراد بڑی آزادی کے ساتھ اس تعلق کو توڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔یہ کوئی انصاف ہے؟ یہ عورت کو ذلیل کرنے کے مترادف ہے۔قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ تم عورتوں کے ساتھ لیٹتے ہو اور پھر ان کے حقوق ادا نہیں کرتے ، یہ کتنی قابل شرم بات ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم مجبور ہو کر کسی عورت کو اپنے ازدواجی تعلق سے علیحدہ بھی کرنا چاہو تو اُسے احسان کے ساتھ ، علیحدہ کرو لیکن یہاں ایک مقدمہ دکھا دو جہاں خاوند یہ کہتا ہو کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں اور مقرر کردہ مہر اُسے دیتا ہوں۔کل ہی ایک مقدمہ پیش ہوا۔ایک خاوند نے کہا میری بیوی کو طلاق دلائی جائے لیکن میں مہر نہیں دوں گا۔میری بیوی کو مجھ سے علیحدہ کر دیا جائے لیکن یہ ضلع کی صورت میں ہو، تا مجھے مہر نہ دینا پڑے۔اس قسم کے مقدموں میں اگر مجبور ہو کر بیوی خلع بھی کرا لے تو قاضی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اُس کے خاوند سے مہر دلائے کیونکہ خاوند طلاق دینا چاہتا تھا لیکن مہر دینے پر راضی نہیں تھا اِس لئے اُس نے بیوی کو ضلع لینے پر مجبور کر دیا۔قاضی کا یہ حق ہے کہ وہ اس قسم کے خلع کو طلاق قرار دے کر بیوی کو اُس کا مہر دلائے۔یہ کوئی اسلام نہیں یہ غنڈوں اور بد معاشوں والا اسلام کہلائے گا شرفاء کا اسلام نہیں کہلائے گا۔عورت اگر خلع کرائے تو کرائے لیکن اگر قاضی سمجھتا ہے کہ وہ مجبور ہو کر خلع کرا رہی ہے تو وہ اُس کے خاوند سے یہ کہہ سکتا ہے کہ تم اس کے سارے حقوق دو پھر اُسے علیحدہ کیا جائے گا۔میں ان امور کے سلسلہ میں جماعت میں برابر کمزوریاں دیکھ رہا ہوں۔پس تم اپنے اخلاق درست کرو اور عورتوں کے حقوق دینے کی طرف توجہ کرو، ان کے حقوق مارنے کی طرف متوجہ نہ ہو۔ناظر صاحب اعلیٰ کا ایک رقعہ مجھے پہنچا ہے کہ صدر انجمن احمد یہ میں جو خراب عصر پیدا ہو گیا اسے نکال دیا جائے۔اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ وہ خود نئے نئے آئے ہیں۔میں نے ان پر واضح کر دیا تھا کہ جب کوئی کارکن غلطی کرتا ہے اور میں اُسے سزا دینے کی کوشش کرتا ہوں تو نظارت اسے بچاتی ہے۔اگر وہ کوشش کریں تو کام بن جائے گا۔جماعت تو