خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 573

خطابات شوری جلد سوم ۵۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء ایک دفعہ عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوا اور ایک احمدی ڈاکٹر بطور گواہ پیش ہوئے۔مخالف فریق یہ سمجھتا تھا کہ احمدی غَضِ بصر سے کام لیتے ہیں اور عورتوں کی طرف نہیں دیکھتے۔اُس کے مخالف فریق کے وکیل نے احمدی ڈاکٹر پر یہ سوال کیا کہ کیا آپ نے فلاں عورت کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھا تھا ؟ اُس کے جواب میں انہوں نے کہا میں نے اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا تھا حالانکہ وہ کہہ سکتا تھا کہ میں اُس کی آواز کو پہچانتا ہوں، اُس کی چال کو پہچانتا ہوں۔لیکن غیر احمدی وکیل کو چونکہ یہ پتہ تھا کہ احمدی سچ کی خاطر جھوٹ نہیں بولتا اس لئے اُس نے یہ تدبیر کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عورت جس پر مقدمہ تھا بری ہو گئی۔اسی طرح ہم نے کفر کا لفظ استعمال کیا ہے تو اُن معنوں میں نہیں کیا جو غیر احمدی مراد لیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مخالفین نے ہمارے متعلق غلط پروپیگنڈا کر کے لوگوں کو ہم سے بہت دور کر دیا ہے۔اُنہیں یقین دلا دیا گیا ہے کہ ہم نیا کلمہ پڑھتے ہیں، ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کرنے والے ہیں اس لئے ان اعتراضات کا جواب دینا انہیں اپنے قریب کرنا ہے۔جب وہ ہم سے دور نہیں ہوں گے تو خود بخو د ہماری بات پر غور کریں گے اور اُسے تسلیم کریں گے۔تم اپنا کچھ نام رکھ لو! اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔حق کو ماننے کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ باطل کی تردید کی جائے۔تمہیں منکرِ رسول کہا جاتا ہے، تمہیں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کرنے والا کہا جاتا ہے اور یہ تمہاری اپنی ہتک ہے اس لئے تم ان اعتراضات کے جواب مناسب پیرایہ میں دو اور ان کی خوب اشاعت کرو تو لوگ تمہارے قریب آجائیں گے اور اس طرح تبلیغ میں سہولت پیدا ہو جائے گی۔دوسرے یہ عادت ڈالو کہ جب کوئی بات کہی جائے تو اُسی وقت اُسے کرو۔اُسے دوسرے وقت پر نہ ڈالو۔ناظر کہتے ہیں کہ ہم جماعتوں کو پندرہ پندرہ خطوط لکھتے ہیں تب جا کر کہیں جواب آتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی کوئی گل بگڑی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ ایسی چیز نہیں کہ اسے نظر انداز کیا جائے۔جماعت میں تنظیم ہو تو سب کام ہو جاتے ہیں۔اگر تنظیم ہی باقی نہ رہے تو