خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 572
خطابات شوری جلد سوم ۵۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء بنا دیا ہے حالانکہ وہ اس سے زیادہ معیار کا ہوتا ہے حالانکہ ہم نے تو دیکھا ہے کہ ایک گریجویٹ وزیر بھی بن سکتا ہے لیکن اوورسیئر وزیر نہیں دیکھا۔پیشہ ور صرف اپنے پیشہ میں لیا جاتا ہے لیکن عام تعلیم یافتہ یا تو بہت اوپر آ جاتا ہے یا بہت نیچے چلا جاتا ہے۔مسولینی مزدور تھا لیکن بعد میں وہ ملک کا ڈکٹیٹر بن گیا۔اب کوئی ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ اگر مزدور وزیر بن سکتا ہے تو میں تو ڈاکٹر ہوں مجھے بادشاہ کیوں نہ بنا دیا جائے ، تو یہ بات درست نہیں ہو گی۔وقف کمیٹی نے وقف کے قواعد مرتب کئے اور اُنہیں واقفین میں بھی سرکولیٹ کر دیا تو اتنا شور پڑ گیا کہ حد نہیں۔مجھے اپنے گھر میں بھی اس کا تجربہ ہوا۔بچے بڑی بڑی دیر تک اونچی آواز سے اس پر بخشیں کرتے رہے۔میں نے دریافت کرایا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو اس پر مجھے بتایا گیا کہ یہ واقفین کے گریڈوں کے متعلق بحث کر رہے ہیں۔سو میں کہوں گا کہ اس رپورٹ کو دریا برد کر دو۔بات دراصل یہ ہوئی کہ یہ رپورٹ واقفین کے سامنے پیش کر دی گئی۔تحریک جدید انجمن احمدیہ نے ایک مجلس بلائی اُس میں واقفین کو بلایا گیا اور اُن سے رائے لی گئی۔اب تم واقفین کو ایسی مجلس میں بلاؤ گے تو وہ بولیں گے ہی اور اگر بولیں گے تو مجھے بھی تنگ کریں گے۔چنانچہ کئی لوگوں نے مجھے لکھ دیا کہ ڈرافس مین اوورسیئر کے برابر ہے لیکن اُسے اوورسیئر کا معیار نہیں دیا گیا۔اوورسیئر گریجوایٹ قرار دے دیا گیا ہے حالانکہ اس کا معیار اس سے بلند ہوتا ہے۔میرے نزدیک اس رپورٹ کو واقفین کے سامنے پیش کر کے سارا فساد کھڑا کیا گیا ہے۔جو کچھ مقرر کرنا تھا اُن کے لئے مقرر کر دیتے اور پھر کہتے کہ تم نے رہنا ہے تو اسے قبول کرو ورنہ جو جی میں آتا ہے کرو۔صحیح لٹریچر شائع کرو ایک اور بات جو میں کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ اس وقت ضرورت یہ ہے کہ صحیح لٹریچر شائع کیا جائے جس سے مخالفین کے اعتراضات کا ازالہ ہو۔پاگل نہ لٹریچر شائع کرنے کی ضرورت نہیں۔اب تک نبوت کے متعلق جولٹریچر ہماری جماعت کی طرف سے لکھا گیا ہے یا شائع کیا گیا ہے وہ محض پیغا میوں کوملحوظ رکھ کر لکھا گیا ہے۔اس سلسلہ میں جو اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں وہ ہماری اپنی اصطلاحیں تھیں اور ان کے معنے بھی وہی تھے جو ہم لیتے ہیں۔اس قسم کے لٹریچر کے متعلق ہمارا یہ خیال بھی نہیں تھا کہ یہ غیر احمدیوں کے سامنے پیش ہوگا اور وہ چڑیں گے۔