خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 571

خطابات شوری جلد سوم ۵۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء یہ ہے کہ چاہے تبلیغ بند ہو جائے ، ہم ایک بڑا سا ہسپتال قائم کر دیں حالانکہ جب آمد تھوڑی ہوگی تو بہر حال اُسے ہر جگہ تقسیم کرنا ہوگا اور ہر شخص یہی کرتا ہے۔اگر ایک شخص کی آمد پانچ روپے ہو تو وہ یہ نہیں کرتا کہ ایک دن مرغا لا کر کھا لیا اور باقی دن بغیر خوراک کے گزار لئے بلکہ وہ تین روپے کا آٹا لے لیتے ہیں ایک روپیہ کا ایندھن لے لیتے ہیں اور ایک روپیہ متفرق ضروریات کے لئے رکھ لیتے ہیں اور اس طرح گزارہ کرتے ہیں۔ہماری حالت بھی یہی ہے ہم نے ہر چیز پرنسبتی طور پر خرچ کرنا ہے۔مثلاً ہسپتال والوں نے لکھا ہے کہ ہمیں ریڈیالوجسٹ کی بھی ضرورت ہے پھر فلاں ماہر کی ضرورت بھی ہے، فلاں ماہر کی بھی ضرورت ہے، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تبلیغ کا کام بند کر دیا جائے اور ہسپتال پر سارا روپیہ خرچ کر دیا جائے۔ہماری جماعت کے ایک ڈاکٹر تھے وہ ریڈیالوجسٹ بھی تھے۔وہ ایک وقت میں ۷۵ روپے لیتے تھے اب وہ ہزاروں روپے لیتے ہیں۔پس ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی آمد میں گزارہ کریں۔دوائیں تو عورتیں بھی دے لیتی ہیں۔ہاں سرجری کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں اور بات صرف یہ تھی کہ اس سلسلہ میں کچھ نہ کچھ ہو جائے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم انگلینڈ یا امریکہ کے ہسپتالوں کے سٹینڈرڈ کا کوئی ہسپتال بنالیں۔میں نے ایک ہسپتال کے متعلق پڑھا تھا کہ اُسے ۳۳ لاکھ روپیہ گورنمنٹ کی طرف سے ایڈ کے طور پر ملتا ہے اور اس کے علاوہ اُس کی اپنی آمد بھی ہے۔اب تمہاری آمد تو اتنی نہیں، پھر تم ان کی نقل کیسے کر سکتے ہو۔بات صرف یہ تھی کہ ایک آدمی رکھ لیا جائے جو سرجری کا کام کرے۔کوئی احمدی نوجوان اس کام کے لئے اپنی زندگی وقف کر دے یا کوئی بوڑھا پنشن لے لے اور یہاں گزارہ پر کام کرے یا کسی نو جوان کو مشق کرائی جائے, پھر ہسپتال بنانے کا سوال ہے تم پہلے ڈاکٹر تو تلاش کر لو ہسپتال پھر بنا لیا جائے گا۔وقف کے قواعد وقف کے قواعد کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے کارکنوں کی ذہنیت غیر احمد یوں والی ہے ان کے اندر نظم اور ضبط نہیں۔میں نے ان کے فائدہ کے لئے بعض قواعد جاری کئے تھے لیکن وقف کمیٹی نے ان کی اور صورت بنا دی ہے۔وہ لوگ تو امن میں ہیں لیکن میرا بُرا حال ہے۔واقفین کی طرف سے مجھے رُفعے لکھے جا رہے ہیں۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ حضور ! ان لوگوں نے اوورسیئر کو گریجوایٹ