خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 565
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء کہاں سے آگئے تھے۔اس قسم کی باتیں لوگوں نے دوسروں سے سنی ہوئی تھیں تو تبھی اُنہوں نے تحریر کیں۔بہر حال کچھ لیڈر اس حملہ کے پیچھے کام کر رہے ہیں۔عوام کے خلاف تمہارا جوش اور غصہ بیکار ہے، اس حملہ کے اصل ذمہ وار لیڈر ہیں۔اس فعل کا تعلق کسی ایک فرد سے نہیں ، یہ ایک قومی فعل ہے اور اس کی ذمہ داری قوم پر ہے۔اس کا ایک علاج تو یہ ہے کہ حکومت اس طرف توجہ کرے لیکن حکومت اس طرف توجہ نہیں کرتی۔دوسرا علاج یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس طرف توجہ کرے اور خدا تعالیٰ اس طرف ضرور توجہ کرے گا بشرطیکہ تم اُس کی طرف رجوع کرو۔خدا تعالیٰ سے کی ہوئی دعا ئیں اور اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرنا خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتے ہیں اور دشمن کو نا کام کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گو ایک عورت نے کھانے میں زہر دے دیا تھا یا یہودیوں نے آپ پر پتھر پھینکنے کی کوشش کی تھی لیکن پھر بھی وہ سمجھتے تھے کہ اُن لوگوں نے خدا تعالیٰ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔اگر ہم نے ان پر حملہ کیا تو خدا تعالیٰ خود ان کی طرف سے ہم سے بدلہ لے گا۔پھر ان میں اس قسم کی تنظیم تھی کہ ان پر دشمن ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔چاہے جماعت کتنی بھی چھوٹی ہو دشمن سمجھتا ہے کہ اگر وہ اس پر ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ ایک چھوٹی سی جماعت پر ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ ایک تنظیم پر ہاتھ ڈالتا ہے۔لیکن جہاں تنظیم نہیں ہوتی ، جماعت میں پراگندگی پائی جاتی ہے، اُس کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہوتا ، دشمن اس پر حملہ کرنے میں دلیر ہو جاتا ہے۔صحابہ میں دیکھ لو جب عبداللہ بن ابی بن سلول نے یہ کہا کہ جو شخص سب سے زیادہ معزز ہے یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول۔وہ نعوذ باللہ سب سے ادنی اور ذلیل شخص یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ سے باہر نکال دے گا تو یہ خبر اس کے بیٹے کو بھی ملی جو اسلام لا چکا تھا۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ میرے باپ نے ایسے الفاظ کہے ہیں اور اس قسم کے الفاظ کی سزا قتل کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔آپ نے فرمایا میرا تو اُسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں۔اس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اگر آپ کا یہ ارادہ ہو کہ میرے باپ کو قتل کر دیا جائے تو آپ مجھے حکم دیں کہ میں اُسے قتل کروں۔اگر کسی اور شخص نے میرے باپ کو قتل کیا تو ممکن ہے کبھی میرے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ اُس نے میرے باپ کو قتل کیا ہے اور میں اس کو کوئی نقصان