خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 564
خطابات شوری جلد سوم ۵۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء قوم سے کہا کہ اگر تم نے یہ یہ قربانی کی تو تمہیں جنت ملے گی ، جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام میں کہا کہ جب تک آپ کی قوم فلاں قسم کی قربانی نہیں کرے گی وہ انعام حاصل نہیں کر سکتی۔اپنے آپ کو کلی طور پر خدا کے حوالہ کرو کیا تم اب یہ خیال کرتے ہو کہ اب وہ خدا نہیں جو پہلے تھا ؟ یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ اب خدا بڑھا ہو گیا ہے اور وہ تمہاری بات سے دھوکا کھا جائے گا ؟ جیسے بائبل میں لکھا ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام نے دھوکا دیا۔نبوت کا حق در اصل عیسو کا تھا۔حضرت اسحاق علیہ السلام نے عیسو سے کہا میں تمہارے لئے دُعا کر دیتا ہوں تم جنگل میں جاؤ اور میرے لئے کوئی جانور شکار کر کے لاؤ۔یعقوب علیہ السلام کی ماں نے جب دیکھا کہ اب عیسو نبی بن جائے گا اور اُس کی خواہش تھی کہ نبوت اس کے بیٹے یعقوب کو ملے تو اُس نے یعقوب علیہ السلام سے کہا کہ پیشتر اس کے کہ عیسو شکار سے واپس آئے تو ریوڑ سے ایک دنبہ لے کر اُسے ذبح کر اور اپنے باپ کو کھانا کھلا اور اس کی دعا حاصل کر۔چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے عیسو کے آنے سے پہلے دھوکا سے حضرت اسحاق علیہ السلام سے دُعا کرائی اور اس طرح نبوت کا حق اپنے بڑے بھائی عیسو سے چھین لیا۔پھر کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کو حضرت اسحاق علیہ السلام سے بھی کم علم ہے اور تم اسے دھوکا دے لو گے؟ پس تمہیں خدا تعالیٰ کے متعلق اپنی ذہنیت کو بدلنا ہو گا۔تمہیں تھی طور پر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے حوالہ کرنا ہوگا۔جب تم اپنے آپ کو گلی طور پر خدا تعالیٰ کے حوالہ کر دو گے تو تم خدا تعالیٰ کی گود میں ہو گے۔اُس وقت دُشمن تم پر حملہ آور نہیں ہو گا خدا تعالیٰ پر حملہ آور ہوگا۔باقی رہا تکالیف کا سوال سو تکالیف تو خدا کی جماعتوں کو بڑھانے والی ہوتی ہیں۔یہ تو جماعت کے تمغے ہیں، سزائیں نہیں اور قوم کی تباہی کا موجب خدا تعالیٰ کی سزا ہوتی ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ اُس کا ہو جاتا ہے۔تمہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس قسم کے حملے انفردی نہیں ہوتے۔ایک عرصہ سے مجھے مخالفین کی طرف سے خطوط آ رہے تھے کہ یوں ہو گا۔اگر اس حملہ کا جو مجھ پر کیا گیا ایک فرد سے ہی تعلق ہے تو یہ سینکڑوں خطوط