خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 566
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء پہنچا بیٹھوں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔جب وہ شخص مدینہ پہنچا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں داخل ہو چکے تھے، باقی لوگ داخل ہورہے تھے۔وہ تلوار کھینچ کر رستہ میں کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہنے لگا اگر تم نے مدینہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔تم مدینہ میں داخل ہونے سے قبل یہ اعلان کرو کہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں اور جب تک تم اس بات کا اعلان نہیں کرو گے میں تمہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔چنانچہ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے اعلان کیا میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں۔الہی تصرف تھا۔خود عبداللہ کے بیٹے نے یہ تہیہ کر لیا کہ جب تک میں اپنے باپ کے منہ سے یہ فقرہ نکلوا نہ لوں گا میں اُسے چھوڑوں گا نہیں۔اگر تم بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کر لو تو خواہ دشمن تمہیں نقصان پہنچانے کی کتنی ہی کوشش کرے اللہ تعالیٰ اس کے ازالہ کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کر دے گا۔ایک ریزولیوشن پر تبصرہ میر ہزار روپے جو جمع کئے گئے ہیں ان کے متعلق بعد میں پچہتر پتہ لگا کہ یہ اس لئے جمع کئے گئے کہ میں امریکہ جا کر اپنا علاج کراؤں۔اول تو یہ بات ہے کہ میری موجودہ صحت امریکہ جانے والی نہیں۔اب بھی تھوڑی دیر کے لئے یہاں آیا ہوں تو درد شروع ہو گئی ہے۔پس میرے لئے امریکہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر ایسا سوال پیدا بھی ہو جائے تب بھی یہ رقم ان اخراجات کی کفیل نہیں ہو سکتی جو میرے امریکہ جانے پر آئیں گے۔انسان جب کسی چیز کا اندازہ لگائے تو صحیح تو لگائے۔جماعت کو اخراجات کا اندازہ کرتے وقت یہ دیکھ لینا چاہئے تھا کہ کیا اس رقم میں امریکہ جانا ممکن ہے؟ ہم نے یہاں سے خلیل احمد ناصر کو بھجوایا تو دو ہزار ڈالر خرچ آئے۔پھر اگر میں امریکہ جاؤں تو ہسپتال ساحل پر ہی تو نہیں اس کے لئے ملک کے اندر جانا پڑے گا۔اس لئے ریلوں پر سفر بھی ہوگا اس پر بھی کچھ رقم خرچ آئے گی۔پھر سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے مزدوریاں دینی پڑیں گی۔پھر اگر میں امریکہ گیا تو آپ کو پرائیویٹ سیکرٹری کا عملہ بھی ساتھ بھیجنا پڑے گا۔