خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 538

خطابات شوری جلد سوم ۵۳۸ مشاورت ۱۹۵۲ء بھی میں یہ یقین کرتا ہوں کہ میں اپنے اس وعدہ پر قائم رہوں گا اور اسی یقین سے کھڑا رہوں گا جس یقین سے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت کھڑا ہوا تھا۔یہ مومنانہ سپرٹ ہے اسے چھوڑنے سے کچھ نہیں بنتا۔ہر فرد یہ سمجھے کہ میں ہی وہ فرد ہوں جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم مقام بنایا گیا ہے اور ساری دُنیا کی تبلیغ میرے ذمہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کون سا روپیہ تھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کون سا روپیہ تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے پاس کون سا روپیہ تھا۔میں جب خلیفہ ہوگا تو میرے پاس کون سا روپیہ تھا۔میرے پاس پہلا اشتہار شائع کرنے کے لئے بھی پیسے نہیں تھے۔خزانہ میں بارہ روپے تھے اور جماعت کا اکثر حصہ مخالف ہو چکا تھا۔بہت تھوڑی سی جماعت میرے ساتھ تھی۔حضرت میر ناصر نواب صاحب مساجد کے لئے چندہ اکٹھا کیا کرتے تھے۔مسجد نور اور نور ہسپتال انہی کی کوششوں کے نتیجے میں بنے ہیں۔ان کے پاس پانچ سو روپیہ تھا۔اُن کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔انہوں نے دیکھا کہ میں نے ایک اشتہار لکھا ہے لیکن اسے شائع کرانے کے لئے میرے پاس روپیہ نہیں وہ میرے پاس آئے اور کہا یہ پانچ سو روپیہ کی تھیلی ہے جو میں مساجد کی تعمیر کے لئے جمع کر کے لایا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اسے اس مصرف میں لانا جائز ہے اس لئے یہ رقم خرچ کر لی جائے۔چنانچہ اس رقم سے میں نے پہلا اشتہار شائع کیا۔خزانہ میں بارہ یا اٹھارہ روپے تھے اور باوجود اس حالت کے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے تھے۔میرا پہلا اشتہار آج بھی چیلنج ہے۔اس کا ہیڈنگ تھا ”کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے۔میں نے اُس وقت یہی لکھا تھا کہ تم خیال کرتے ہو کہ تم زیادہ ہو لیکن زیادہ ہم ہوں گے جن کے ساتھ خدا ہے۔چنانچہ آج اُن کے جلسہ سالانہ میں اتنے لوگ بھی نہیں ہوتے جتنے ہماری مجلس شوریٰ میں شامل ہوتے ہیں۔پس فتح ایمان سے ہوتی ہے روپیہ سے نہیں، تم اپنے اندر ایمان پیدا کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کون سا روپیہ تھا۔آپ کا کھانا اور کپڑا آپ کی بیوی دیتی تھیں لیکن آپ کے اندر ایمان تھا اور یہی ایمان تھا جس کی وجہ سے آپ جیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کون سا روپیہ تھا۔بے شک آپ کے