خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 537

خطابات شوری جلد سوم ۵۳۷ مشاورت ۱۹۵۲ء چیز ہے۔باہر کی تبلیغ بھی ہمارے ذمہ ہے اور تبلیغ ہی ہمارا اصل کام ہے جو مغربی پاکستان کر رہا ہے۔اگر اصل کام مغربی پاکستان کر رہا ہے تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ تم بھی تبلیغ کرو۔میں بنگال کو اس لحاظ سے اہمیت دیتا ہوں کہ وہ ایک طرف ہے اور یہ کہ اس کے لوگ زیادہ ذہین اور حساس ہیں لیکن میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جہاں تک کوشش کا سوال ہے تم بے شک سوال کرو لیکن یہ نہ سمجھو کہ بنگال کی ذمہ داری بنگال پر نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری باہر کی جماعتوں پر ہے اگر یہی احساس پنجاب میں پیدا ہو جائے اور وہ کہے کہ ہمارا مقابلہ صرف اپنے صوبہ کے لوگوں سے ہے تو کام کیسے چل سکتا ہے۔ہمارا مقابلہ اڑھائی کروڑ یا تین کروڑ سے نہیں بلکہ ہمارا مقابلہ اڑھائی ارب سے ہے اور یہ مقابلہ کم نہیں جو حالت آپ لوگوں کی ہے وہی حالت ہماری ہے۔ہم نے دُنیا میں تبلیغ کرنی ہے حوصلہ پست نہ کیجئے اور یہ مت کہیئے کہ فلاں رعایت ملے گی تو کام ہوگا۔اگر پنجاب والے حوصلہ چھوڑ دیں تو کام ہی رُک جائے۔تم اپنا کام بھی کرو اور اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی تبلیغ کا کام کرو۔ہر مومن اپنے آپ کو ساری دنیا کا مبلغ سمجھے کسی مومن کسی مومن کے ذمہ کوئی خاص گھر نہیں، کوئی خاص گاؤں نہیں، کوئی خاص شہر نہیں ، کوئی خاص ملک نہیں، بلکہ ساری دُنیا ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں۔بڑا کام کرنے کا موقعہ دیا ہے لیکن سب سے بڑا کام میں صرف اس عہد کو سمجھتا ہوں جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہو گئے تو لوگوں نے خیال کیا کہ آپ کی وفات بے وقت ہوئی ہے ابھی آپ کی بہت پیشگوئیاں ایسی ہیں جو پوری نہیں ہوئیں۔میں نے آپ کے سرہانے کھڑے ہو کر خاموش زبان میں کہا لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ وفات بے وقت ہوئی ہے یہ اچھا نہیں ہوا لیکن میں عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری دُنیا بھی مرتد ہو جائے تب بھی میں آپ کا کام کروں گا اور اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں اکیلا ہوں اور میری زندگی کے کاموں میں سے سب سے زیادہ اہم کام یہی ہے جو میں نے کیا۔اب بھی میں تحریک کرتا ہوں ، انذار کرتا ہوں تبشیر کرتا ہوں لیکن آج بھی میرا ایمان ہے۔( خدا تعالی ساری جماعت کو حفاظت میں رکھے اور اسے ترقی عطا فرمائے ) کہ اگر سارے لوگ بھی مرتد ہو جائیں تو اس بڑھاپے میں