خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 539

خطابات شوری جلد سوم ۵۳۹ مشاورت ۱۹۵۲ء پاس جائیداد تھی لیکن وہ جائیداد دوسروں کے قبضہ میں تھی۔آپ خود فرماتے ہیں :- لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكُلِي وَ صِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاهَالِي یعنی کسی زمانہ میں دستر خوان کے بچے کھچے ٹکڑے مجھے کھانے کو دیئے جاتے تھے لیکن آج کئی خاندان میرے ذریعہ سے پرورش پا رہے ہیں۔جب تک تم یہ احساس نہیں رکھو گے تبلیغ نہیں کر سکو گے۔تم روپیہ دو گے تو تبلیغ ہو گی لیکن یہ بنیادی چیز نہیں ہم تم سے اس وقت تک چندہ مانگتے ہیں جب تک تم میں روپیہ دینے کی طاقت ہے۔جب تم میں روپیہ دینے کی طاقت نہیں رہے گی تو ہم چندہ نہیں مانگیں گے۔اس وقت خدا تعالیٰ کوئی اور صورت پیدا کر دے گا۔ایمان کی قدر کریں پس میں نصیحت کروں گا کہ آپ لوگ ایمان کی قدر کریں ، اس سے آپ جیتیں گے۔ایک وقت وہ تھا جب ستر روپے بھی چندہ کے طور پر اکٹھے کئے گئے تھے اور اس قدر قلیل رقم کے لئے ہمیں اشتہار دینا پڑا تھا لیکن آج ہم اپنی جیب سے اتنی رقم دے دیتے ہیں اور اس کا پتہ بھی نہیں لگتا۔ابھی چندہ کی تحریک ہوئی ہے تو پونے پانچ ہزار روپیہا اکٹھا ہو گیا ہے۔یہ چیز ہمارا حوصلہ بڑھاتی ہے کہ چندہ کی تحریک کی جاتی ہے تو اس کمرہ میں سے پونے پانچ ہزار روپیہ کی رقم اکٹھی ہو جاتی ہے۔منارة امسیح کے لئے کتنا زور لگایا گیا لیکن صرف دس ہزار روپیہ کی رقم اکٹھی ہوئی تھی! می اور وہ نامکمل رہ گیا تھا۔بعد میں اور چندہ اکٹھا کیا گیا اور ۷۵ ہزار روپیہ کی رقم سے مینارہ اسیح مکمل ہوگا۔پس حوصلے بلند رکھو اور خدا تعالیٰ پر نظر رکھو تم بے شک مانگو لیکن مانگنے پر تو کل نہ کرو۔تمہارا اصل تو کل خدا تعالیٰ پر ہونا چاہئے۔“ موصی کی جائیداد و ہی شمار ہوگی مجلس مشاورت میں نظارت بہشتی مقبرہ کی یہ تجویز پیش کی ہوئی کہ:- جو وفات کے وقت ثابت ہو جن موصوں کی وصیت میں نقدی، زیور، مال مویشی مہر درج ہو اُن سے ان چیزوں کا حصہ وصول کر کے پھر سرٹیفکیٹ دیا جایا کرے کیونکہ یہ ایسی اشیاء ہیں جو ضائع ہونے والی ہیں بعد میں ان کا حصہ اکثر نہیں ملتا۔“