خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 534
خطابات شوری جلد سوم ۵۳۴ مشاورت ۱۹۵۲ء آخر متفق ہو گیا۔ہمارے ایک معزز احمدی کراچی جارہے تھے تو ان سے ایک شخص نے کہا اگر میں پندرہ بیس منٹ اور وہاں بیٹھ جاتا تو سارے شبہات دور ہو جاتے۔پس بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے اپنے طبقہ کے لوگوں میں تبلیغ کی ہی نہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ احمدیت ان پر اثر نہ کرتی۔امراء ہیں، علماء ہیں، علماء سے مراد صرف دینی علماء ہی نہیں دُنیوی علماء بھی ہیں۔پھر وکلاء ہیں، ڈاکٹر ہیں یہ سب اپنے اپنے طبقہ میں جائیں۔خدا تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت نیک رکھی ہے آپ اگر کسی کے پاس جائیں گے اور اسے صحیح رنگ میں تبلیغ کریں گے تو وہ احمدیت میں داخل ہو جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بھائی کو دست آتے ہیں۔آپ نے فرمایا اُسے شہد دو۔چنانچہ اُسے شہد دیا گیا لیکن دست زیادہ ہو گئے۔وہ دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے شہد دیا تھا لیکن دست اور زیادہ ہو گئے ہیں۔آپ نے فرمایا اور شہد دے دو۔وہ پھر واپس آیا اور عرض کیا میں نے دوبارہ شہر دیا ہے لیکن دست اور بڑھ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا اور شہد دے دو۔وہ پھر آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مرض اور بڑھ گیا ہے۔آپ نے فرمایا تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، خدا تعالیٰ جھوٹا نہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے شہد میں شفا ہے۔تم اسے اور شہد دو وہ ضرور ٹھیک ہو جائے گا۔چنانچہ اس نے پھر شہد دیا اور وہ ٹھیک ہو گیا۔اسی طرح میں کہتا ہوں خدا تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت نیک بنائی ہے۔تم اس کے پاس جاؤ اور اسے تبلیغ کرو تو وہ ضرور مانے گا۔اگر وہ نہیں مانتا تو ہم غلطی پر ہیں۔خدا تعالیٰ کا قول صحیح ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ آج ابو جہل ، عتبہ اور شیبہ نہیں، بے شک وہ ہیں لیکن میں یہ نہیں مانتا کہ کوئی شخص احمدیت کو قبول نہیں کر سکتا۔بشرطیکہ تم صحیح رنگ میں تبلیغ کرو۔تم خود ان لوگوں کی مجالس میں جاؤ اور تبلیغ کے مواقع تلاش کرو۔صاحب پوزیشن لوگوں کو تبلیغ اگر تم نے دنیا کو فتح کرنا ہے تو دنیا تدبیر سے فتح ہوگی ویسے نہیں۔یہ بات غلط ہے کہ صاحب پوزیشن لوگ صداقت قبول نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو صاحب پوزیشن لوگوں نے قبول کیا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو غریبوں نے مانا تھا لیکن