خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 535
خطابات شوری جلد سوم ۵۳۵ مشاورت ۱۹۵۲ء ان کا اس وقت تک دُنیا پر قبضہ نہیں ہوا جب تک کہ انہیں صاحب پوزیشن لوگوں نے نہیں مانا۔جن لوگوں کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے دُنیا کی کنجی دی ہوئی ہوتی ہے، ان کا وجود بھی ضروری ہوتا ہے اس لئے ان لوگوں کو جماعت میں لانے کی کوشش کرو۔مولوی محمد صاحب پراونشل امیر صوبہ بنگال نے یہ بات پیش کی ہے کہ ان کے چندہ کے اُنتیس ہزار روپے میں سے ۲۳ ہزار روپے انہیں چاہئیں۔جہاں تک کام کا سوال ہے اتنی رقم بھی تھوڑی ہے لیکن جہاں تک اصول کا سوال ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں جب کام شروع ہوا تو پہلے پہلے صرف چالیس آدمی احمدی ہوئے۔پھر انہوں نے کام کیا۔ان لوگوں میں ویسے لوگ نہیں تھے جیسے اس وقت بنگال میں ہیں بلکہ وہ اس سے کم درجہ کے تھے۔وہ کام کرتے گئے اور جماعت بڑھتی گئی یہاں تک کہ صوبہ سرحد اور یو۔پی سے بعض لوگ آئے۔صوبہ سرحد میں بالکل ابتدائی زمانہ میں بعض لوگ احمدی ہو گئے تھے۔مولوی غلام رسول صاحب ۱۸۹۷ ء میں وہاں گئے تھے۔ان ملکوں میں تبلیغ پھیلی اور اُنہوں نے سلسلہ کے بوجھ اُٹھائے اور اُٹھاتے چلے گئے اور اب جو جماعت بنی ہے وہ انہی چندلوگوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ان کو مدد دینے والا کوئی نہیں تھا۔بنگال کو بھی اپنے اندر اعزاز نفس پیدا کرنا چاہئے۔مولوی محمد صاحب نے کہا ہے کہ ہمارا گل چندہ ۲۹ ہزار روپے ہے۔اگر اس کی تحلیل کی جائے تو اس میں سے بارہ ہزار روپیہ غیر بنگالیوں کا ہوگا۔بنگالیوں کا چندہ صرف پندرہ سولہ ہزار روپیہ رہ جائے گا۔بے شک بچہ روتا ہے تو ماں کی چھاتی میں دودھ آتا ہے۔پس جہاں تک رونے کا سوال ہے یہ جائز امر ہے۔مطالبہ کے لئے چلانا جائز ہے لیکن جہاں تک حقیقت کا سوال ہے یہ ایسی حقیقت نہیں جس میں بنگال والے منفرد ہوں اور اس میں کوئی اور شامل نہ ہو۔انہی حالات میں سے پنجاب گزرا ہے۔اس کا جواب پراونشل امیر صوبہ بنگال نے یہ سوچا ہے کہ دو میں سے ایک بات کرو یا تو ہمیں ضرورت کے مطابق مالی امداد دی جائے اور یا خلیفہ ہمیں دے دیا جائے اور چندے لے لئے جائیں۔یہ بات درست ہے کہ خلیفہ تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے لیکن اگر بنگال والوں کا مطالبہ جائز ہے تو پھر اور ممالک بھی یہی مطالبہ کر سکتے ہیں۔مثلاً شام ہے ، شام والے بھی یہی مطالبہ کریں گے کہ خلیفہ ہمیں دے دیا جائے۔شام کو جتنا اختلاف ہے بنگال کو نہیں۔جو برتری کا دعویٰ