خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 533
خطابات شوری جلد سوم ۵۳۳ مشاورت ۱۹۵۲ء حاصل کریں۔پھر علماء کا طبقہ ہے آجکل اس طبقہ میں بھی تبلیغ کم ہے اور کوئی بڑا عالم چند سال سے احمدیت میں داخل نہیں ہوگا۔یہ بات نہیں کہ مولوی لوگ احمدیت میں داخل نہیں ہو سکتے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل بھی علماء میں سے تھے۔پھر آپ احمدیت میں داخل ہوئے یا نہیں؟ جس طرح اُس وقت غیر احمدیوں میں خدا تعالیٰ کا خوف پایا جاتا تھا اب بھی خدا تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہے اگر اب بھی تم تبلیغ کرو تو کئی لوگ احمدیت میں آجائیں۔درحقیقت ہمیں صحیح طور پر تبلیغ کرنی آتی ہی نہیں۔ورنہ اگر مخالف سے مخالف شخص کو بھی لایا جائے اور اسے خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو وہ احمدیت کو قبول کر لیتا ہے۔اب تو بہت سے غیر احمدی یہاں ملنے آتے ہیں کیونکہ ربوہ سڑک پر واقع ہے قادیان کنارے پر واقع تھا۔پچھلے دنوں ایک لیڈی ڈاکٹر یہاں آگئیں۔وہ کراچی سے سرگودھا جا رہی تھیں جب وہ ربوہ سے گزریں تو انہوں نے مسجد کے مینارے دیکھے اور وہ مسجد دیکھنے کے لئے یہاں آگئیں۔انہوں نے کہا میں نے سنا تھا کہ آپ کا مذہب الگ ہے لیکن جب مسجد دیکھی تو یہ ویسی ہی تھی جیسے اور مسلمانوں کی ہوتی ہے تو میں اسے دیکھنے کے لئے یہاں آ گئی۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ بعض لوگ یہاں سے گزرے اور ربوہ کی آبادی دیکھی تو وہ یہاں آگئے۔پس یہ بڑی بھاری غفلت ہے اس کو دور کرنا چاہئے۔خدا تعالیٰ نے ہماری آمد کا جو ذریعہ مقرر کیا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام حق اولاد در اولاد میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی ماننے والوں کے اندر ایسا مادہ رکھ دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنا فرض پورا کریں گے تو آمد ہمارے ذمہ ہوگی۔مخالف سے مخالف شخص کے اندر بھی نیکی اور تقویٰ ہوتا ہے اور جب اسے سچائی کی طرف بلایا جائے تو وہ اسے مان لیتا ہے۔جب میں پہلی دفعہ حیدر آباد (سندھ) گیا تو وہ شخص جس نے اُس وقت سب سے زیادہ مخالفت کی تھی، میں نے اس دفعہ جب لیکچر کیا تو وہ میرے پاس آیا۔سیکرٹری صاحب نے کہا کہ فلاں شخص آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔اس نے مصافحہ کیا اور کہا مجھے جماعت پر جو سیاسی اعتراض تھے اُن میں سے اکثر حصہ دور ہو گیا ہے۔میں نے کہا باقی اعتراض بھی دور ہو جائیں گے۔اب دیکھو وہی شخص جو اختلاف کی بنیادرکھنے والا تھا ،