خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 514
خطابات شوری جلد سوم ۵۱۴ مشاورت ۱۹۵۲ء اُس کے نزدیک گریڈ پانچ نہیں ہونا چاہئے بلکہ آٹھ ہونا چاہئے۔اگر انجمن نے کسی کارکن کی تنخواہ پچاس کی بجائے ساٹھ کر دی ہے تو جتنا شکوہ اُسے پچاس روپے تنخواہ کے متعلق تھا ساٹھ روپے تنخواہ پر اُس کا شکوہ اس سے بڑھ گیا ہے اس کے نزدیک تنخواہ ساٹھ نہیں اسی ہونی چاہئے تھی حالانکہ بعض حالات میں ہمارے یہاں کے کارکنوں کی حالت گورنمنٹ کے کارکنوں کی حالت سے اچھی ہے۔گورنمنٹ کے سارے محکموں کی تنخواہیں ایک سی نہیں۔مرکز میں کارکنوں کی تنخواہیں اور ہوتی ہیں، اضلاع میں تنخواہیں اور ہوتی ہیں اور تحصیلوں میں تنخواہیں اور ہوتی ہیں۔ڈسٹرکٹ بورڈ کی تنخواہوں کو جب دیکھا گیا تو ہمارے کارکنوں کی تنخواہیں ان کی تنخواہوں سے بڑھی ہوئی تھیں۔اخباروں میں وقتاً فوقتاً جو اعلانات چھپتے رہتے ہیں، ان سے ڈسٹرکٹ بورڈ کی تنخواہوں اور صدر انجمن احمدیہ کی تنخواہوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے لیکن پھر بھی یہ کہا گیا کہ صدر انجمن احمدیہ کے کارکنوں کی تنخواہیں کم ہیں۔تو میں نے کہا تنخواہیں بڑھائی جائیں اور اصولاً مغز اسلام کے لحاظ سے بھی تنخواہیں بڑھانی چاہئیں۔اسلام کا مغز یہ ہے کہ ہر شخص کے کھانے پینے کے لئے کافی گنجائش ہو۔گو کارکن بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ حکومت ، صدر انجمن احمد یہ اور ذاتی کاموں میں فرق ہے۔حکومت جبراً ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن صدر انجمن احمد یہ جبر نہیں کر سکتی۔حکومت جبراً ٹیکس لیتی ہے اور دینے والے دیتے ہیں لیکن یہاں یہ کام نہیں ہوسکتا۔کوئی انجمن خواہ کتنی طاقتور ہو، اس کے پاس جبر کی طاقت نہیں ہو سکتی اور لوگوں کا ایک حصہ ایسا ہوتا ہے جو جبر سے مانتا ہے۔حکومت جبر سے ٹیکس وصول کرے گی مگر ایک خلیفہ یا نبی ایسا نہیں کرے گا۔ان کو جبر کی طاقت حاصل نہیں ، جبر کی طاقت حکومت کو ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کے پاس زکوۃ لینے کے لئے آدمی بھیجے۔اس نے کہا میرا اپنا گھر پورا نہیں ہوتا تمہیں کہاں سے دوں جس طرح یہاں بعض لوگ کہتے ہیں۔اگر ان سے چندہ مانگا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ اپنے گھر کا حساب ٹھیک کریں یا آپ کو چندے دیں۔حکومت ہوتی تو وہ کیا کرتی ؟ وہ یقیناً جبراً وصول کر لیتی۔انہیں مجرمانہ کرتی ، قید کرتی، یا دونوں سزائیں ایک وقت میں انہیں دیتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ایک وقت میں حکومت مل گئی تھی لیکن وہ حکومت جبری حکومت نہیں تھی اس لئے آپ نے جبر کا پہلو اختیار نہیں کیا بلکہ