خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 515

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء اخلاقی پہلو اختیار کیا اور فرمایا اس شخص سے آئندہ زکوۃ نہ لی جائے۔حکومت کے لحاظ سے آپ نے اس سے زیادہ وصول کر لینا تھا لیکن چونکہ آپ کے پاس حکومت نہیں تھی یا جو حکومت تھی اس میں مذہبی رنگ غالب تھا آپ اپنی زندگی میں بتانا چاہتے تھے کہ نبوت کا پہلو حکومت کے پہلو پر جو اتفاقی طور پر ملی ہے غالب ہے اس لئے آپ باوجود دُنیاوی حکومت مل جانے کے اس پر مذہبی پہلو غالب رکھتے تھے۔پس آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ شخص زکوۃ دینے سے انکار کرتا ہے اس سے جبر ا ز کوۃ وصول کرو اور صرف زکوۃ ہی نہیں بلکہ زائد روپیہ وصول کرو بلکہ یہ فرمایا کہ اس سے آئندہ زکوۃ نہ لی جائے۔اخلاقی لحاظ سے ایک شخص کے لئے جس میں ایمان ہو یہ سزا کا اثر مومن قلوب پر سزا بہت بڑی ہے لیکن جس شخص میں ایمان نہیں وہ خوش ہوتا ہے کہ چلو اب کچھ دینا نہیں پڑے گا۔میرا اپنا تجربہ ہے، جماعت کے بعض افراد کو جب یہ سزا دی جاتی ہے کہ ان سے چندہ نہ لیا جائے تو ان کے خطوط پر خطوط آتے ہیں کہ ہمیں معاف کر دیا جائے ، غلطی ہو گئی تھی آئندہ ایسا نہیں ہو گا لیکن بعض کی طرف سے کوئی خط آتا ہی نہیں۔وہ سمجھتے ہیں اچھا ہوگا روپیہ ضائع ہو رہا تھا ہمارے کام آئے گا۔وہ شخص جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سزا دی تھی اُس میں ایمان موجود تھا۔وہ سمجھ گیا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے اس لئے وہ اگلے سال دونوں سالوں کی زکوۃ لے کر آ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ حکم تو پچھلے سال کے لئے تھا، اس سال کی زکوۃ لے لی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں ہم زکوۃ نہیں لیں گے۔وہ ہر سال زکوۃ لے کر آتا رہا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں اُس سے زکوۃ نہیں لی۔آپ کی وفات کے بعد وہ حضرت ابو بکر کے پاس بھی زکوۃ لے کر آیا لیکن آپ نے فرمایا جس شخص سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ نہیں لی، میں اُس سے زکوۃ کیسے لے سکتا ہوں۔احادیث میں آتا ہے کہ وہ ہر سال گلے کو پالتا اور پھر اس کے ساتھ نئی زکوۃ لے کر آتا اور زکوۃ کے جانور اس کے پاس اتنی تعداد میں ہو گئے کہ جب وہ زکوۃ لاتا تو وادی بھر جاتی تھی لیکن اس سے زکوۃ نہیں لی جاتی تھی۔وہ روتا ہوا آتا تھا اور روتا ہوا چلا جاتا تھا۔پس مان لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو حکومت ملی تھی وہ اور قسم کی تھی لیکن سزا کا