خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 504

خطابات شوری جلد سوم کی کوئی صورت نہیں رہتی۔۵۰۴ مشاورت ۱۹۵۲ء پنشنز اپنی خدمات پیش کریں تیسرے جب تک نئے لوگ تیار نہ ہوں اس وقت تک ضروری ہے کہ پنشنز آئیں اور کام کریں۔کچھ انہیں پنشن مل جائے گی اور تھوڑی سی رقم سلسلہ سے لے لیں۔اس طرح ان کا گزارہ بھی معقول ہو جائے گا اور سلسلہ کے کام میں بھی ترقی ہوگی۔آجکل لوگوں میں یہ ایک مرض پیدا ہو رہا ہے کہ سلسلہ کے کاموں سے عموماً بے تو جہی برتی جاتی ہے۔یہ بڑی غفلت کی علامت ہے اور اس کو جس قدر جلد ہو سکے دور کرنا چاہئے کیونکہ دین کے کام میں جو عزت ہے وہ کسی اور کام میں نہیں۔ناظر اور وکلاء نائبین کو کام سکھائیں (۴) میں نے بتایا ہے کہ اصلاح کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ نئے نوجوان نائب ناظر اور نائب وکیل لگائے جائیں مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا نہ ہو ناظر اور وکلاء انہیں الگ کر کے بٹھا دیں یا انہیں ایسے کاموں پر لگا دیں جو ناظروں کے نہیں بلکہ کلرکوں کے ہیں۔پہلے بعض ناظروں اور وکلاء نے ایسا کیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بعض نوجوان دل برداشتہ ہو گئے اور وہ کام چھوڑ کر چلے گئے۔ورنہ جن نو جوانوں کو کام کرنے کا موقع ملا ہے انہوں نے اپنے اپنے درجہ کے مطابق نہایت اچھا کام کیا ہے مثلاً بیت المال میں عبدالباری ہے۔جب خان صاحب بیمار ہو گئے اور راجہ علی محمد صاحب کام چھوڑ کر ہے۔چلے گئے ، عبدالباری ہی ناظر بنا رہا اور دو تین سال تک اس نے اچھا کام چلایا۔اس کے کام میں نقص بھی نکالے جاتے ہیں مگر جب بوجھ آ پڑا تو اس نے کام کر کے دکھا دیا۔گو اس کی طبیعت میں شدید بدظنی اور غلط نکتہ چینی کا مادہ ہے جس کی وجہ سے وہ ہر وقت خطرناک ہو سکتا ہے۔اسی طرح صلاح الدین ہے، اس نے اپنے کام کو خوب سنبھال لیا ہے۔پھر سعید عالمگیر ہے، وہ بھی بہت اچھا کام کرنے والا ہے۔عزیز احمد وقف زندگی ہے وہ بھی خوب کام کر رہا ہے اور تعریف کے قابل ہے شاہ صاحب نے بھی اب اپنے دو ماتحت گریجوایٹ کو کام سکھانا شروع کر دیا ہے۔میں نے اب بھی کہا ہے کہ وہ ایسے قابل نہیں مگر میری رائے پہلے ان کے متعلق بہت زیادہ خراب تھی۔اب میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے