خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 505
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء کچھ نہ کچھ کام سنبھال لیا ہے۔بہر حال ناظروں اور وکلاء کا فرض ہے کہ وہ اپنے نائبین کو کام سکھائیں تا کہ وقت آنے پر وہ سلسلہ کا بوجھ برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔یہ نوجوان بی۔اے بلکہ ایم۔اے ہونے چاہئیں۔اسی طرح پنشنروں کو چاہئے کہ وہ آخری عمر میں سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔وہ ساری عمر ایک ایک دو دو روپیہ کی ترقی کے لئے لڑتے رہے ہیں۔اب انہیں خدا کی خوشنودی کے لئے بھی کوئی کام کرنا چاہئے تا کہ ان کی عاقبت سنور جائے۔محکمے اپنی سکیم جماعت کے سامنے لائیں (۵) پھر ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تمام محکموں کو جماعت کے سامنے پروگرام پیش کرنے پر مجبور کیا جائے۔مثلاً اخبارات میں ہر محکمہ کا پروگرام شائع ہو اور پھر دوسرے لوگ اخبار ہی کے ذریعہ سے اس کے متعلق مشورہ دیں۔یا سہ ماہی مجالس مرکز میں ہوں جن میں جماعت کے نمائندے مشورے دیں اور کام کا جائزہ لیں۔بہر حال کوئی نہ کوئی طریق ایسا ہونا چاہئے جس سے محکمے اپنے پروگرام پیش کرنے پر مجبور ہوں۔ہمارا کام دنیا میں اسلام پھیلانا ہے۔پس ہمارے محکموں کو یہ بتانا چاہئے کہ انہوں نے اس غرض کے لئے کیا سکیم بنائی ہے۔اس پر تقریریں کرواؤ ، مضامین شائع کرواؤ، محاسبہ کرو اور پوچھو کہ تم کیا کر رہے ہو۔اس طرح امید ہے کہ دو چار سال کے اندر اندر جماعت میں بیداری پیدا ہونی شروع ہو جائے گی اور محکموں کی غفلت کم ہو جائے گی۔نگران کمیٹیاں (1) پھر جیسے فنانس کمیٹی مقرر ہے، اسی طرح ضروری ہے کہ آئندہ تین تین آدمیوں کی نگران کمیٹیاں بنائی جائیں۔ایک امور عامہ کی نگران کمیٹی ہو، ایک دعوۃ و تبلیغ کی ہو، ایک وکالت تبشیر کی ہو، ایک تعلیم و تربیت کی ہو، ایک تجارت اور صنعت کی ہو، ایک بیت المال کی ہو، ایک تصنیف کی ہو، ایک زراعت کی ہو، ہر شخص کو معائنہ کا حق حاصل ہو اور سال بھر میں دو دفعہ لازمی طور پر اجتماعی معائنہ ہو۔آدمی وہی لئے جائیں جو تعلیم یافتہ ہوں اور فن کو سمجھنے والے ہوں۔سال میں دو دفعہ معائنہ کرنے کے بعد وہ تفصیلی رپورٹ کریں جو شوری میں پیش ہو اور پھر وہ رپورٹ تمام جماعتوں کے مطالعہ کے لئے شائع کی جائے۔اس قسم کی رپورٹوں پر شروع میں بے شک