خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 503
خطابات شوری جلد سوم ۵۰۳ مشاورت ۱۹۵۲ء تم خدا تعالیٰ کے روپیہ کی نگرانی اپنے روپیہ سے بھی زیادہ رکھو تا کہ وہ بے جا خرچ نہ ہو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ شام میں گئے وہاں اطلاع ملی کہ ارد گرد کے علاقوں میں طاعون پھیل رہی ہے۔آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا تو سب نے یہی رائے دی کہ آپ کا یہاں ٹھہر نا مناسب نہیں ، آپ واپس تشریف لے جائیں۔لیکن حضرت ابوعبیدہ بن جراح جو کمانڈر انچیف تھے اُن کی رائے اس کے خلاف تھی۔جب واپسی کا فیصلہ ہو گیا اور تیاری ہونے لگی تو حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اَتَفِرُّ مِنْ قَضَاءِ اللهِ کیا آپ اللہ کی ایک تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا نَعَمُ نَفِرُّ مِن قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ ہاں ہم خدا کی تقدیر سے اس کی دوسری تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں۔اس طرح بیشک روپیہ تمہارا نہیں مگر ساتھ ہی تمہاری یہ بھی تو ذمہ داری ہے کہ تم دیکھتے رہو کہ خدا کے روپیہ کا صحیح استعمال ہو ورنہ غلط ذہنتیں بعض دفعہ بڑی بڑی خرابیاں پیدا کر دیتی ہیں۔حضرت ابوذرغفاری سے جب کوئی شخص کہتا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت ہے تو آپ کہا کرتے کہ بیت المال سے کیوں نہیں لے لیتے ؟ بیت المال میں جتنا مال ہے سب خدا کا ہے اور تم خدا کے بندے ہو خدا کا مال اگر خدا کے بندے نے لے لیا تو کیا حرج ہوا۔اُن کی باتیں سُن سُن کر بعض لوگوں نے ڈاکے مارنے شرع کر دیئے۔جب حضرت عثمان کو اس بات کا علم ہوگا تو آپ نے اُنہیں ڈانٹا اور پھر حکم دے دیا کہ وہ مدینہ سے دس بارہ میل باہر رہا کریں تا کہ لوگوں کے لئے فتنہ کا موجب نہ بنیں۔لوگوں نے حضرت عثمان پر جو اعتراضات کئے ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت ابوذرغفاری کو باہر نکال دیا اور اُن پر ظلم کیا حالانکہ اگر وہ مدینہ میں رہتے تو سارا اسلامی خزانہ لوٹا جاتا کیونکہ ان کی رائے یہ تھی کہ خدا کا مال اگر خدا کے بندے استعمال کر لیں تو یہ ان کا حق ہے۔حالانکہ خدا کے مال کے صرف اتنے معنے ہوتے ہیں کہ اس کا ناجائز استعمال نہ کرو اور اسے زیادہ سے زیادہ روحانیت کی ترقی کے لئے استعمال کرو۔یہ معنے نہیں ہوتے کہ اسے جب چا ہو اپنے ذاتی استعمال میں لے آؤ۔پس جماعت کو ایک زبر دست رائے عامہ پیدا کرنی چاہئے۔اب تو میں شور مچاتا ہوں اور یہ لوگ اپنی مجالس میں مجھ پر پھپتیاں اُڑاتے ہیں اور رائے عامہ ان کی تائید کرتی ہے اگر رائے عامہ بیدار ہو جائے تو پھرئستوں کے خوش ہونے