خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 36

خطابات شوری جلد سوم ۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء پس میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کافی مہلت دی ہے۔اب وہ ترقی کا فیصلہ کر چکا ہے۔اب وہ شاید زیادہ مہلت نہیں دے گا اس لئے جماعت کو چاہئے که فرض شناسی سے کام کرے۔ضلعوں کے ضلعے ایسے ہیں کہ جہاں سے کسی کھاتے پیتے زمیندار، تاجر یا دوسرے ایسے لوگوں کے لڑکے جو اپنے دو تین یا زیادہ بچوں میں سے ایک کو بڑی آسانی سے دین کے لئے وقف کر سکتے ہیں، احمد یہ سکول میں داخل نہیں۔میرا اندازہ ہے کہ تین ، ساڑھے تین لاکھ جماعت ہندوستان میں ہے۔عورتیں، بچے اور نا کارہ کو اگر نکال دیا جائے تو چالیس پچاس ہزار کی تعداد رہ جاتی ہے۔ان میں سے اگر پانچ ہزار بھی کھاتے پیتے سمجھ لئے جائیں اور وہ اپنا ایک ایک لڑکا بھی دین کے لئے پیش کریں تو پانچ ہزار مبلغ مل سکتا ہے۔ایک بچہ کو دین کے لئے وقف کرنے میں کوئی مشکل نہیں۔دوسروں کو کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے تمہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی یا دوسرے اچھے کاموں پر لگایا اب یہ گویا ایک ٹیکس تمہارے ذمہ ہے کہ اپنے اس بھائی کو خرچ دیتے رہو اس طرح اُن کے اپنے رزق میں بھی برکت ہوگی۔حضرت ابو ہریرۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور دھرنا مار کر بیٹھ گئے جتنی کہ مسجد سے نکلنا بھی بند کر دیا۔اُن کا ایک اور بھائی تھا جس کے کام میں یہ پہلے مدد دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ اُن کا بھائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! میرا بھائی تو اب میرے لئے گویا ایک چھٹی ہے دو چار ماہ بعد آتا ہوں تو اُسے کچھ خرچ دے جاتا ہوں اور یہ پہلے کام میں جو مجھے مدد دیتا تھا اُس سے محروم ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی رزق اس کے طفیل دیتا ہے۔^ میر محمد الحق صاحب مرحوم کو جب حضرت خلیفہ اول نے دینی علوم کی تعلیم دینی شروع کی تو ایک دن حضرت نانا جان مرحوم نے کہا کہ میرے دل پر یہ بوجھ ہے کہ یہ کھائے گا کیا ؟ اسے کوئی فن بھی سکھا دیا جائے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا اس کے بڑے بھائی کو اللہ تعالیٰ اسی کے لئے تو رزق دے گا تا وہ اس کی خدمت کرے اور دین کی خدمت کے ثواب میں شریک ہو۔تو دین کے لئے بیٹوں کو وقف کرنا اہم ذمہ واری ہے۔جس میں اب تک جماعت نے اپنی ذمہ واری کو ادا کیا ہوتا تو آج ناظر صاحب سے جب پوچھا گیا تھا