خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 35

خطابات شوری جلد سوم ۳۵ مشاورت ۱۹۴۴ء کے لئے تمہیں مبلغین کا بھی پیدا نہ کر سکنا کتنے افسوس کی بات ہے۔ہمارے ذمہ تمام دنیا میں تبلیغ کرنا ہے اور اس کام کے لئے تھیں کیا تمہیں ہزار مبلغ بھی کافی نہیں۔کیا جوں جوں ضرورت پڑے گی ہر قدم پر میں ناظر سے پوچھا کروں گا کہ کون سے آدمی آپ کے پاس ہیں اور وہ اس طرح جواب میں خاموش ہو جایا کرے گا؟ یا درکھیں کہ ہر دفعہ ناظر کا خاموش ہونا آپ کے لئے تازیانہ غیرت ہے۔مبلغ ناظر نے نہیں بلکہ آپ نے پیدا کرنے ہیں، یہ اس کا کام نہیں بلکہ آپ کا ہے۔چاہئے کہ ہر وقت دو تین ہزار مبلغ تیار کھڑے ہوں تا جب بھی آواز آئے فوراً بھیجے جاسکیں مگر یہ نہیں ہو سکتا جب تک آپ لوگ اپنے فرض کو ادا نہ کریں۔آپ لوگ سوچیں کہ کتنے کھاتے پیتے لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو مدرسہ احمدیہ میں پڑھاتے ہیں۔اس سکول میں پڑھنے والے اکثر طالب علم وہ ہیں جو اگر یہاں نہ پڑھتے تو بھیک مانگتے۔ان کا اس سکول میں پڑھنے کے لئے آنا سلسلہ پر احسان نہیں بلکہ ان کو پڑھانا سلسلہ کا احسان ہے۔ان پر اور ان کے ماں باپ پر کہ ان کے بچے بھیک مانگنے کے بجائے تعلیم پاتے ہیں۔کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ میرا بچہ بھیک مانگنے کے لئے تیار تھا یا چپڑاسی بننے کے لئے تیار تھا مگر میں نے اسے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرا دیا کہ وہ دین کی خدمت کر سکے؟ غرض یہ بہت بڑا حرف جماعت پر ہے کہ آج وہ تیں مبلغ بھی پیش نہیں کر سکتی۔میں نے بار بار دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو وقف کریں۔جماعت اخلاص اور جوش تو دین کے لئے بہت ظاہر کرتی ہے، مگر عملی حالت جو ہے اس سے ظاہر ہے کہ ہمارے پاس تیں مبلغ بھی نہیں جن کو کام پر لگایا جا سکے۔یہ تو وہی بات ہے کہ سو گز واروں ایک گز نہ پھاڑوں۔میں جانتا ہوں کہ دوسری کوئی قربانی نہیں جس سے جماعت نے دریغ کیا ہو۔مالی لحاظ سے جماعت کی قربانیاں شاندار ہیں اور اگر اب بھی میں اس تھیں ہزار کی منظوری دے دیتا تو مجھے یقین ہے کہ جماعت یہ بھی پورا کر دیتی ، مگر جب مصرف ہی نہیں تو میں کیوں لوں۔بعض مخالف کہتے ہیں کہ میں چندوں کا روپیہ کھا لیتا ہوں مگر میں تو جب تک سلسلہ کو ضرورت نہ ہو انجمن کو چندہ کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوں۔ہاں اگر مبلغ ہوں، وہ باہر جائیں تو ان کے لئے اور ان کے بیوی بچوں کے لئے روپیہ کی ضرورت ہو سکتی ہے مگر جب ہمارے پاس مبلغ ہی نہیں ہیں تو روپیہ کی کیا ضرورت ہے۔