خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 501
خطابات شوری جلد سوم ۵۰۱ مشاورت ۱۹۵۲ء کوئی بھی سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ناظر صاحب اعلیٰ اکسٹھ سالہ عمر کے پنشنز ہیں اور سات آٹھ سال میں وہ اُس عمر کو پہنچنے والے ہیں جب انسان کسی کام کے قابل نہیں رہتا۔ناظر صاحب امور عامہ نو جوانی کی حالت میں آئے اور اب وہ ساٹھ سال کے قریب پہنچ چکے ہیں اور بوجہ آزاد مشنوں میں کام کرنے کے کام کی عادت بالکل بھلا چکے ہیں۔ناظر صاحب دعوة و تبلیغ باسٹھ یا چونسٹھ سال کے ہیں۔( میں ان کی عمر اپنی عمر سے ایک سال زیادہ سمجھتا ہوں اور وہ ہمیشہ اپنی عمر مجھ سے ایک سال کم بتاتے ہیں۔میرے حساب کی رو سے وہ چونسٹھ سال کے ہیں اور اپنے حساب کی رو سے وہ باسٹھ سال کے ہیں ) مگر یہ ہمت والے ہیں اور اپنا کام پورا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ناظر صاحب تعلیم و تربیت بھی اکہتر سال کے ہو چکے ہیں۔ناظر صاحب بیت المال اٹھہتر سال کے ہیں اور پھر ساتھ ہی انہیں فالج بھی ہے۔نائب ناظر تیار کئے جائیں یہ لوگ دماغ تو ہیں مگر ہاتھ بھی تو ہونے چاہئیں اور اس کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ۱۵۔۱۶ نائب ناظر تیار کئے جائیں۔ورنہ کسی وقت انجمن بالکل دیوالیہ ہو جائے گی لیکن نہ تو ہماری فنانس کمیٹی نے اس بات کو سوچا اور نہ انجمن نے اس پر کبھی غور کیا۔ان میں یہ مرض ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ جتنا کام ہے وہ سب ہمارے ہاتھوں میں ہی رہے۔جن قوموں میں بیداری نہیں ہوتی اور حکومت کا مادہ اُن میں نہیں پایا جاتا ، وہ یہی چاہتی ہیں کہ جو کام بھی ہو ہمارے ہاتھ میں ہی رہے نوجوانوں کے پاس نہ جائے مگر سوال تو یہ ہے کہ ایسی حالت میں کب تک کام چلے گا۔ہمارے ہر محکمہ کے لئے قابل ، لائق اور کام کے ماہر نو جوانوں کی ضرورت ہے کہ ان لوگوں کے فارغ ہونے سے پہلے پہلے وہ ان کے کام کو سنبھال لیں۔اگر اس غرض کے لئے صدر انجمن احمدیہ کو زیادہ تنخواہیں بھی دینی پڑیں تو بہر حال اسے زیادہ تنخواہیں دینی چاہئیں اور کام کے قابل نوجوان جو اچھے تعلیم یافتہ ہوں ہمیں فوری طور پر تیار کرنے چاہئیں۔ورنہ مجھے تو صدرانجمن احمد یہ کام کے لحاظ سے دیوالیہ نظر آتی ہے۔