خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 502
خطابات شوری جلد سوم ۵۰۲ مشاورت ۱۹۵۲ء غلبہ اسلام کیلئے سکیم کی ضرورت ہم کی ضرورت اب میں وہ عام باتیں لیتا ہوں جن سے کام لینا ہوا کرتے ہیں۔پس ہر شخص میں احساس ہونا چاہئے کہ وہ نیک نیتی سے کام کرے اور ہمیشہ اس امر کو مد نظر رکھے کہ میں نے دُنیا فتح کرنی ہے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کی غرض تھی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بتاتا ہے کہ ہم نے ظلِ محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس لئے بھجوانا ہے تا کہ وہ سارے ادیان پر اسلام کو غالب کرے۔اور جب مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنا ہے تو اس کام کے لئے کوئی نہ کوئی سکیم ہونی چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فتح اللہ تعالیٰ کی تائید اور اُس کی نصرت سے ہوا کرتی ہے اور ہماری کوششیں ایک حقیر چیز ہیں مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی سکیم تو ہمارے سامنے ہونی چاہئے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہ سکیں کہ ہم اپنی جدو جہد کو اس اس رنگ میں جاری رکھیں گے۔محض کسی وقت ایک آدھ اشتہار کا شائع کر دینا یا کسی کتاب کا شائع کر دینا سکیم نہیں کہلا سکتا۔سکیم وہ ہوتی ہے جو متواتر جاری رہنے والی ہو اور جس سے ہر فرد واقف ہو اور جس پر عمل کرنے کے لئے ہر شخص کے اندر جوش اور تڑپ ہو۔اس کے بغیر عقلی طور پر دنیا کو فتح کرنا ناممکن ہے مگر میرے پاس دفاتر کی طرف سے جو رپورٹیں آتی ہیں ان میں اس قسم کی کسی سکیم کا ذکر نہیں ہوتا۔مثلاً ناظر صاحب اعلیٰ کی طرف سے ہی رپورٹ آ جائے گی کہ اس ہفتہ میں ہم نے ساٹھ چٹھیاں بھیجیں۔میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے دنیا میں اسلام اور احمدیت پھیلانے کے لئے کیا کوشش کی ہے۔چٹھیاں بھجوا دینا تو ایک پوسٹ آفس کا کام ہے۔مصارف کی نگرانی دوسرے ایک زبر دست رائے عامہ پیدا کرو تا کہ یہ مردے کسی طرح زندہ ہو جائیں۔ہر فرد کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ میں ضروری ہے۔اوّل تمام کام نیک نیتی سے درست چندہ تو خدا کو دیتا ہوں مگر میرا ساتھ ہی یہ بھی کام ہے کہ میں اس روپیہ کا حساب لوں اور دیکھوں کہ وہ صحیح مقام پر صرف ہوا ہے یا نہیں۔یہ دونوں چیزیں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں۔روپیہ دینا تمہارے لئے ضروری ہے اور تمہارے لئے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ تم یہ روپیہ کسی انسان کو نہیں بلکہ خدا کو دے رہے ہو مگر ساتھ ہی تمہارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ