خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 497

۴۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء خطابات شوری جلد سوم ایک ایک محکمہ میں اگر ہمارے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو تین تین ہزار آدمی موجود ہوں تو وہ ان کو نکال ہی نہیں سکیں گے کیونکہ ان کے اپنے کام معطل ہو جائیں گے۔اتنی خالی جگہوں کو کوئی حکومت بھی چند دنوں میں پر نہیں کر سکتی۔مثلاً ایک صوبہ میں پانچ سات سو مدرس ہوں، پچاس ساٹھ انجینئر ہوں، تو وہ اُن کو نکالیں گے کس طرح؟ اُن کو نکالنے کے معنے اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنے کے ہوں گی۔پس لوگ خواہ ہمارے دشمن ہوں اگر ہمارے آدمی مختلف فن سیکھ کر کافی تعداد میں ایک ایک پیشہ میں کام کر رہے ہوں تو دشمن ہمیں نکال نہیں سکتے۔وہ اُسی وقت نکال سکتے ہیں جب ہمارے افراد خال خال ہوں۔یہی حال تاجروں کا ہے۔اگر وہ بھی مختلف مقامات پر چھائے ہوئے ہوں اور اپنی تجارت کو فروغ دے کر ارد گرد پھیلتے چلے جائیں تو ان کا بائیکاٹ کبھی کامیاب ہی نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اگر وہ ان کا بائیکاٹ کریں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اپنے فوائد کو آپ قربان کر دیں اور دُنیا میں کون ایسا احمق ہے جو اُسی شاخ کو کاٹنا شروع کر دے جس پر خود بیٹھا ہوا ہو۔پس جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایسے اصول یقیناً اختیار کئے جاسکتے تھے جن سے کام کو وسیع طور پر پھیلایا جا سکتا تھا اور اگر تاجر ہمارے ساتھ تعاون کرتے تو بعض تجارتوں میں ہم خاصے ماہر ہو جاتے۔صرف اس لئے کہ ہمارے تاجر کمپنیاں بنا کر کام کرنے کے عادی نہیں، ان کی تجارت وسیع نہیں ہوتی۔دُنیا کی کوئی قوم صرف انفرادی تجارت کے زور سے باقی اقوام پر غالب نہیں آ سکتی۔جب مسلمانوں کی تجارت اپنے عروج پر تھی تو اُس وقت بھی دوسرے لوگوں کا ان کی تجارت میں حصہ شامل ہوتا تھا۔یورپ اور امریکہ میں بھی یہی طریق رائج ہے اور اسی وجہ سے وہ ایک لمبے عرصے سے تجارت پر چھائے ہوئے ہیں۔فرد کبھی لمبی تجارت کر ہی نہیں سکتا ، آخر ایک نہ ایک دن وہ ٹوٹ جاتی ہے۔اس لئے کمپنیاں بنا کر تجارت کرنا ہی تجارت کا کا میاب طریق ہے مگر ہمارا تاجر ہمیشہ عاجل فائدہ کو دیکھتا ہے آجل کو نہیں۔وہ یہ تو چاہتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو تجارت پر لگا دوں یا اپنے بھائی کو تجارت میں شامل کر لوں مگر وہ یہ نہیں چاہتا کہ میں اپنے ہمسایہ کو بھی اپنی تجارت میں شریک کرلوں۔میں نے ایک دفعہ بمبئی میں ایک تبلیغی وفد بھیجا۔میر محمد اسحق صاحب بھی اس میں