خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 496
خطابات شوری جلد سوم ۴۹۶ مشاورت ۱۹۵۲ء ہوتی ہے۔مثلاً تعلیم کا محکمہ ہے اگر اس میں ہمارے صرف آٹھ دس استاد ہوں تو وہ کسی شورش کے وقت آسانی سے ان کو نکال سکتے ہیں لیکن اگر دو چار سو استاد ہوں تو وہ ان کو نکال ہی نہیں سکتے کیونکہ ان کے نکالنے سے خود ان کا اپنا نقصان ہوتا ہے۔میں اس کی ایک موٹی مثال دیتا ہوں۔میں ایک دفعہ دلی گیا۔مسٹر مانٹیگو وزیر ہند اُس وقت ہندوستان میں آئے ہوئے تھے۔چوہدری ظفر اللہ خان بھی اُس وقت میرے ساتھ تھے اور گو وہ اُس وقت صرف وکیل تھے مگر اچھے ذہین اور ہوشیار تھے اور قربانی کا مادہ بھی ان میں پایا جاتا تھا۔اُنہی دنوں مجھے ایک احمدی دوست کا جو فوج میں ملازم تھے خط آیا کہ مجھے فوج سے نکال دیا گیا ہے اور مجھے کہا گیا ہے کہ تم بڑا اچھا کام کرنے والے ہو مگر چونکہ تم احمدی ہو اس لئے تمہیں فارغ کیا جاتا ہے۔میں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ آپ کمانڈر انچیف سے ملیں اور اُسے کہیں کہ ایک شخص اگر اپنے کام میں اچھا بھی ہو، گورنمنٹ کا وفادار بھی ہو اور پھر بھی اسے نکال دیا جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وفاداری کی آپ کی نگاہ میں کوئی قیمت نہیں اور آپ ان لوگوں کو منہ لگا رہے ہیں جو شورش پسند ہیں، اس کا نقصان آپ کو ہی پہنچے گا کیونکہ وفاداری کی آپ کوئی قیمت نہیں لگا رہے۔چوہدری صاحب واپس آئے تو ان کے چہرہ سے غصہ کے آثار نمایاں تھے۔اُنہوں نے بتایا کہ میں مل تو آیا ہوں مگر اس کے ڈھب ٹھیک نہیں۔میں نے کہا کیا ہوا ؟ کہنے لگا اس نے جواب یہ دیا کہ چوہدری صاحب! ہمیں فوج میں امن کی ضرورت ہے۔اگر ایک احمدی کے رکھ لینے سے باقی ننانوے فوجیوں میں بددلی پیدا ہو اور وہ وفادار نہ رہیں تو ہم کیا کریں۔ہمارے پاس یہی علاج ہے کہ ہم اس ایک احمدی کو نکال دیں تاکہ باقی فوج میں بددلی پیدا نہ ہو۔میں نے کہا چوہدری صاحب اُس نے ٹھیک کہا ہے انگریز کو اپنے لئے تین لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ہماری تو ساری جماعت ایک لاکھ بھی نہیں بنتی اور جب ہماری جماعت اس کی فوجی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی تو لازماً وہ مجبور ہے کہ دوسروں کے جذبات کا خیال رکھے۔یا تو یہ ہونا چاہئے کہ اگر انگریز انہیں کہے کہ جاؤ میں تمہاری پرواہ نہیں کرتا اور وہ سب کے سب فوج سے نکل جائیں تو ہم اتنی ہی فوج انہیں بھرتی کر کے دے سکیں۔اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو پھر یقیناً نانوے کی سنی جائے گی اور ایک کی نہیں سنی جائے گی خواہ وہ کتنا ہی وفادار ہو۔تو حقیقت یہ ہے کہ