خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 495

خطابات شوری جلد سوم ۴۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء تجارت اس میں تحریک نے کوشش تو کی ہے مگر سخت شکست کھائی ہے۔ہم اب تک تجارت میں ترقی کرنا تو الگ رہا اس میں ادنی کامیاب بھی نہیں ہو سکے اور میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ احمدی تاجروں کی ذہنیت ہے جن میں تعاون کا مادہ نہیں ہے۔ایک عام احمدی سمجھتا ہے کہ اگر میں چندہ دوں گا تو میرے بھائیوں کی امداد ہو گی۔ملازم بھی ایک حد تک دیانتدار ہوتا ہے اور اسے موقع ملے تو وہ اپنے بھائیوں کی مدد کرنے سے دریغ نہیں کرتا لیکن ایک تاجر کی ذہنیت سخت پست ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میری تجارت میرے ہاتھ میں ہی رہنی چاہئے ورنہ میری اولا د تباہ ہو جائے گی۔حالانکہ یہ اول درجہ کی حماقت اور پاگل پن والی بات ہے۔ہر تاجر صرف اپنے فائدہ کو دیکھتا ہے قوم کے فائدہ کا خیال اُس کے دماغ میں نہیں آتا۔اس سلسلہ میں اگر کسی نے کچھ تعاون سے کام لیا ہے تو ملک عبدالرحمن صاحب قصوری ہیں۔وہ بے شک تجارتی طور پر کام کرتے ہیں مگر کرتے تو ہیں۔دوسرے تاجر تو اس فکر میں رہتے ہیں کہ سو فیصدی خود فائدہ اُٹھا ئیں اور اگر کوئی سکیم لاتے ہیں تو وہی جو خود اُن کے فائدہ کی ہو۔اِس وقت سلسلہ کی طرف سے ایک تیل کا کارخانہ جاری ہے۔میں نے کئی احمدی تاجروں کو بلایا اور ان سے کہا کہ وہ سلسلہ کے اس کارخانہ کو دیکھیں اور پھر مشورہ دیں کہ ہم اسے کس طرح ترقی دے سکتے ہیں مگر وہ ہاں جی یا بہت اچھا کہہ کر چلے گئے اور پھر اُنہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔میں حیران ہوں کہ تاجروں کی ذہنیت اس قدر گندی کیوں ہے۔جتنے تاجر ہیں ان میں عدم تعاون اور عدم ذمہ داری کا مادہ پایا جاتا ہے۔وہ صرف عاجل فائدہ کو دیکھتے ہیں آجل کو نہیں۔اس وقت تو وہ اپنے آپ کو فائدہ میں محسوس کر رہے ہیں لیکن میں انہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اگر انہوں نے اصلاح نہ کی تو کسی دن وہ اس کا بُری طرح خمیازہ بھگتیں گے۔ہمارے خلاف سیاسی جوش بڑھتا جا رہا ہے اور گو آج تاجر محفوظ ہیں مگر کل یہی لوگ سلسلہ کے سامنے اپنا ناک رگڑنے پر مجبور ہوں گے اور سلسلہ کو ہی اپنی مدد کے لئے بلائیں گے۔پس جب کل اُنہوں نے سلسلہ کو اپنی مدد کے لئے بلانا ہے تو کیوں آج ہی وہ سلسلہ سے تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔یا درکھو ہر وہ تجارت یا صنعت یا ملا زمت جو قوم کے اکثر افراد کے ہاتھوں میں آجاتی ہے اسے کوئی دشمن تباہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ فرد کے ہاتھ سے نکل کر قوم کے ہاتھ میں پہنچ چکی