خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 487
خطابات شوری جلد سوم ۴۸۷ مشاورت ۱۹۵۲ء ناظر اور نائب ناظر کو اس محکمہ سے ہٹا دیں تو ایک ذرہ بھر بھی فرق کام میں نہیں پڑے گا۔ہمارا سارا فخر اجتماع پر ہے۔ہم کہتے ہیں ہم ایک جماعت ہیں جس صوبه داری نظام کے معنے یہ ہیں کہ اجتماع سے جو فوائد وابستہ ہوا کرتے ہیں وہ ہمیں حاصل ہیں لیکن اگر ہم اس اجتماع سے فائدہ نہیں اُٹھاتے تو اجتماع کا فائدہ کیا اور فخر کس امر پر۔آخر اس جمود کو دیکھتے ہوئے میں نے ضروری سمجھا کہ پنجاب میں صوبہ داری نظام شروع کیا جائے چنانچہ پچھلے سال سے یہ نظام قائم کر دیا گیا ہے اور گوا بھی کام کی ابتداء ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ گزشتہ پندرہ سال میں امور عامہ نے جو کام نہیں کیا تھا وہ اس صوبہ داری نظام کے ماتحت صرف ایک سال میں ہوا ہے اور جس رنگ میں یہ کام ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے بہت کچھ ترقی کی امید ہے۔اسی طرح ربوہ کی زمین کا اب تک کوئی فیصلہ ہونے میں نہیں آتا۔ناظر صاحب صرف لاہور کا چکر لگا آتے ہیں اور پھر ایک امید کا فقرہ کہہ دیتے ہیں اور بات وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔اگر کسی کام کے نہ ہونے کو ہم کام کہ سکیں تو شاید اس محکمہ کا بھی کچھ کام ہے۔تعلیم۔تعلیم کے محکموں کی غرض یہ تھی اول تعلیم کو پھیلانا، دوم تعلیم نظارت تعلیم کا کام تعلیم تعلیم کے کی اصلاح کرنا ، سوم نوجوانوں کو اقتصادی اور قومی ضرورتوں کے کے مطابق تعلیم دلوانا، چہارم معلموں کا پیدا کرنا، پنجم سلسلہ کی ضرورتوں کے مطابق مختلف فنون، زبانوں اور کاموں کی تعلیم دلوانا۔اس محکمہ کا کام بوجہ کالج اور سکول اور جامعہ کے کچھ نظر آتا ہے لیکن وہ بھی کسی اصول کے ماتحت نہیں مگر اس کا ایک جواب ہو سکتا ہے کہ تعلیم کے محکمہ کو کبھی کوئی موزوں اور مناسب ناظر ملا ہی نہیں۔یہ تو مولوی محمد دین صاحب کا احسان ہے کہ وہ اے سال کی عمر میں بھی یہ کام کر رہے ہیں اور اپنی طاقت کے مطابق اچھا کر رہے ہیں ورنہ کچھ بھی نہ ہوتا۔میں نے گزشتہ دنوں ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں میں نے بیان کیا تھا کہ ہمارے نو جوانوں کو مختلف شعبوں میں جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔شروع شروع میں نوجوانوں سے یہ غلطی ہوئی کہ اُنہوں نے یہ دیکھ کر کہ فوج میں اچھی تنخواہیں مل رہی ہیں کثرت کے ساتھ فوج میں جانا شروع کر دیا مگر اس کا نتیجہ خراب نکلا کیونکہ جب بھی کسی قوم کے افراد