خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 488
خطابات شوری جلد سوم ۴۸۸ مشاورت ۱۹۵۲ء۔کسی خاص محکمہ میں جمع ہو جائیں ، دشمن انہیں شبہ کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔چنانچہ اس کثرت کی وجہ سے کئی احمدی افسر زیر عتاب آگئے۔ابھی ایک دوست نے اپنے ایک بھائی کے متعلق جو فوج میں میجر ہیں اور ہندوستان سے آئے ہیں لکھا ہے کہ وہ کئی روز سے غائب ہیں معلوم نہیں ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ دشمن کے جاسوس ہیں۔یہ خرابیاں اسی لئے پیدا ہوئیں کہ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں کثرت کے ساتھ داخل ہو گئے۔اگر وہ مختلف محکموں میں جاتے اور کسی ایک جگہ جمع نہ ہوتے تو یہ خرابی پیدا نہ ہوتی۔سورۃ یوسف کو دیکھو حضرت یعقوب نے اسی خوف سے اپنے لڑکوں کو مصر میں ایک دروازہ سے داخل ہونے سے منع کیا تھا۔محکمہ تعلیم کا کام یہ ہے کہ وہ نو جوانوں کو قومی ضرورتوں کے مطابق تعلیم دلوائے اور اس غرض کے لئے نوجوانوں کی ذہنیت کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور یہ کام تبھی ہوسکتا ہے جب سکولوں اور کالجوں کے طلباء سے رابطہ رکھا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ وہ کس کس لائن میں ترقی کر سکتے ہیں۔ہمارا سکول چنیوٹ میں ہے اور آنے جانے پر اگر ریل کے ذریعہ جائیں تو چھ آنے خرچ ہو جاتے ہیں۔اگر ناظر صاحب تعلیم تین چار آدمیوں کو ساتھ لے کر ریل کے ذریعہ جاتے اور شام کو واپس آ جاتے تو ایک دورہ پر ان کے صرف دو اڑھائی روپے خرچ ہو سکتے تھے۔اسی طرح کچھ جلسے وہ جامعہ احمدیہ میں کرتے۔ایک دو دفعہ لاہور چلے جاتے۔اُستادوں کو جمع کرتے ، طلباء کو اکٹھا کرتے اور انہیں بتاتے کہ تمہیں ایسی طرز پر کام کرنا چاہئے کہ تمہیں روپیہ بھی ملے اور سلسلہ کے لئے بھی تم مفید وجود بن سکو۔تو اس طرز پر کام کرنے کے نتیجہ میں بہت کچھ اصلاح ہو جاتی مگر ادھر توجہ ہی نہیں کی گئی۔اب بھی ہماری تعلیم کی نسبت دوسرں سے بہت زیادہ ہے۔لوگ شور مچاتے ہیں کہ احمد یوں کو نوکریاں زیادہ ملتی ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے بیٹے سینما دیکھتے رہتے ہیں اور ہمارے لڑکے پڑھائی میں مشغول رہتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان اُن سے آگے نکل جاتے ہیں اور ملازمتوں میں بھی وہ دوسروں سے آگے رہتے ہیں۔بہر حال یہ محکمہ تعلیم کا کام ہے کہ وہ نو جوانوں کو مفید کام پر لگائے۔اسی طرح غرباء کو ابھارنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دیہات میں بعض جگہ ہیں ہیں