خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 33

خطابات شوری جلد سوم ۳۳ مشاورت ۱۹۴۴ء ایک تجویز یہ ہے کہ حضور کی حفاظت کے لئے دوست زندگی وقف کریں۔تحریک جدید کے اصول کے مطابق انہیں گزارہ دیا جائے۔دوسری تجویز یہ ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ حضور کی حفاظت کے لئے پہرے کا انتظام کس محکمہ کے سپرد ہو؟ نظارت امور عامہ یا پرائیویٹ سیکرٹری کے؟ تیسری تجویز یہ ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ اس غرض کے لے ۷۲۰ روپیہ کی رقم منظور کیا جائے یا ۶۰۰۰ یا ۳۰۰۰۔جو دوست پہلی تجویز کے حق میں ہوں کہ حضور کی خدمت میں سفارش کی جائے کہ حضور ماہر اصحاب کی ایک کمیٹی مقرر فرما دیں جو حضور کی خدمت میں رپورٹ پیش کرے۔اس کا مالی حصّہ بجٹ کمیٹی میں پیش کر دیا جائے۔حضور دونوں رپورٹوں کے بعد اس کے متعلق خود فیصلہ فرماویں۔ایسے دوست کھڑے ہو جائیں۔رائے شماری کے بعد چوہدری صاحب نے فرمایا: ''اکثریت اس تجویز کے حق میں ہے۔نوٹ : مورخہ ۹ را پریل کو اجلاس شروع ہونے سے پہلے چوہدری صاحب موصوف نے اعلان کیا کہ حضور نے ناظر صاحب امور عامہ، چوہدری فتح محمد صاحب، حضرت میاں بشیر احمد صاحب اور شیخ نیاز احمد صاحب پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جو ۱۵ دن کے اندر حضور کی خدمت میں رپورٹ پیش کرے۔“ نشر واشاعت کا بجٹ پانچ ہزار مشاورت کے دوسرے دن ۱۸ اپریل کو سب کمیٹی نظارت دعوۃ وتبلیغ کی رپورٹ پیش ہوئی۔نئے سے پندرہ ہزار کئے جانے کی تجویز مبلغین اور ان کے لئے تمہیں ہزار روپے بجٹ میں رکھنے کی تجویز کے بعد سب کمیٹی کی ایک تجویز یہ تھی کہ نشر واشاعت کے موجودہ بجٹ کو پانچ ہزار سے بڑھا کر پندرہ ہزار کر دیا جائے۔اس کی بابت حضور نے فرمایا : - اس کا بھی شوری سے تعلق نہیں یہ کوئی مستقل چندہ نہیں بلکہ طوعی چندہ ہے۔یہ کہنا