خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 34
خطابات شوری جلد سوم ۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں جماعت سے پندرہ ہزار روپیہ مانگوں یہ بے معنی بات ہے۔طوعی چنده نظارت پندرہ ہزار چھوڑ پندرہ لاکھ لے لے کسی کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔میں یہ امید نہیں کرتا کہ دوست خوش ہوں گے کہ وہ تہیں ہزار کے بوجھ سے بچ گئے۔جنہوں نے مخالفت کی اس وجہ سے نہیں کی کہ جماعت زائد بوجھ سے بچ جائے بلکہ اس وجہ سے کی کہ ابھی اس بوجھ کے اُٹھانے کا موقع نہیں، کیونکہ مبلغ میسر نہیں۔بعض دوست خوش ہوتے ہیں کہ ناظر صاحب شرمندہ ہوئے اور وہ مبلغ پیش نہیں کر سکے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ناظر کوئی ایسی مرغی نہیں کہ جو انڈے دے کر مبلغ پیدا کر دے۔اگر وہ نام پیش نہیں کر سکے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ آپ لوگ ناکام رہے ہیں کہ اپنی ذمہ واری کو ادا کر سکیں اور آج جب کہ ہر طرف سے اسلام کی تبلیغ کے لئے آوازیں آ رہی ہیں آپ کی تیاری کا یہ حال ہے کہ اب تک تمیں مبلغ بھی تیار نہیں کر سکے۔وقف اولاد کی اہمیت کئی سال ہوئے میں نے وقف اولاد کی تحریک کی تھی اگر آپ لوگ اس پر توجہ کرتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔جب آپ لوگ ہنس رہے تھے کہ ناظر صاحب پھنس گئے تو فرشتے آسمان پر ہے کہ آپ لوگوں نے خود اپنے خلاف ڈگری دے دی۔کوئی ایک انسان اس ضرورت کو کبھی پورا نہیں کر سکتا۔ہر ایک پر ذمہ واری ہے اور ہر ایک اپنی ذمہ واری کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہے۔آپ بھی جواب دہ ہیں اور میں بھی۔مگر میں نہیں بھی ہوں اس لئے کہ میں نے اپنا ہر ایک بچہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔میاں ناصر احمد وقف ہیں اور دین کا کام کر رہے ہیں۔چھوٹا بھی وقف ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کس طرح دین کے کام پر لگایا جائے۔اس سے چھوٹا ڈاکٹر ہے وہ امتحان پاس کر چکا ہے اور اب ٹرینگ حاصل کر رہا ہے تا سلسلہ کی خدمت کر سکے ( اس عرصہ میں دوسرے دونوں سلسلہ کے کام پر لگ چکے ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ) باقی چھوٹے پڑھ رہے ہیں اور وہ سب بھی دین کے لئے پڑھ رہے ہیں۔میرے تیرہ لڑکے ہیں اور تیرہ کے تیرہ دین کے لئے وقف ہیں مگر آپ لوگ سوچیں کہ آپ نے کیا کیا ہے؟ دوست خوش ہیں کہ ہماری جماعت ایک تبلیغی جماعت ہے مگر ایک تبلیغی جماعت