خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 32
خطابات شوری جلد سوم ۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء نہایت تندہی سے اسے سرانجام دیتے ہیں۔مگر پھر بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ حضور کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں۔اس اہم خدمت کے لئے قابل آدمی کم تنخواہ پر مہیا نہیں ہوتے۔اس کے بعد بعض نمائندگان نے اپنی آراء پیش کیں۔آخر پر چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانصاحب صدر مجلس نے فرمایا : - تجویزیں اتنی ہی ہیں جتنے احباب اس وقت بولے ہیں۔ہر ایک پر رائے لینا مشکل بلکه شاید ناممکن ہو۔اس لئے میں ان میں سے اصولی تجاویز بیان کر دیتا ہوں۔ان کے متعلق پھر رائے لے لی جائے گی۔پہلی تجویز یہ ہے کہ یہ مسئلہ چونکہ جلدی میں فیصلہ کرنے کا نہیں اس لئے اسے ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے جو حضور کی حفاظت کے متعلق تمام تفاصیل طے کرے۔مگر اس میں ایک مشکل ہے۔مجلس مشاورت کل ختم ہو جاوے گی۔کمیٹی کل تک یہ کام نہیں کر سکتی۔نتیجہ یہ ہوگا کہ کمیٹی اگلے سال مجلس مشاورت میں اپنی تجاویز پیش کر سکے گی۔اس لئے میں اس کی وضاحت کر دیتا ہوں کہ حضور سے درخواست کی جائے کہ ایک کمیٹی مقرر فرما دیں ایسے احباب کی جو تجربہ رکھتے ہوں۔یہ کمیٹی جلد سے جلد فیصلہ کرے کہ حضور کی حفاظت کا کیا انتظام ہو۔کس صیغہ سے متعلق ہو۔نظارت امور عامہ سے یا پرائیویٹ سیکرٹری سے (جیسا کہ بعض احباب نے کہا ہے ) پہرے کا کونسا حصہ والٹیر ز کے سپرد ہو اور کونسا تنخواہ داروں کے۔خرچ کے لئے کتنا بجٹ رکھا جائے۔یہ کمیٹی حضور کی خدمت میں رپورٹ کرے۔اس رپورٹ کا مالی پہلو اس کمیٹی میں پیش ہو جو بجٹ پر غور کرنے کے لئے حضور بنا ئیں۔ہماری طرف سے حضور کی خدمت میں یہ سفارش ہو کہ اس کمیٹی اور مالی کمیٹی کی رپورٹوں پر حضور خود فیصلہ فرماویں۔دوسری تجویز یہ ہے کہ اس کے متعلق ہم خود فیصلہ کریں کہ حضور کی حفاظت کا کیا انتظام ہونا چاہئے۔اس کے متعلق جو تجاویز اس وقت دوستوں نے بیان کی ہیں انہیں ایک ایک کر کے میں پیش کرتا چلا جاؤں گا۔