خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 457

خطابات شوری جلد سوم ۴۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء سے متعلق احمدیت کی تعلیم عام نہ ہوگی اور لوگوں تک نہ پہنچ سکے گی۔“ تألیف و تصنیف کے سلسلے میں حضور نے جدید رجحانات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تاثرات کا بھی تفصیل سے ذکر کیا اور فرمایا: - ہمیں لکیر کا فقیر نہ بننا چاہئے۔نئے حالات اور نئے ماحول کے زیر اثر جو جدید رُجحانات پیدا ہوئے ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے رسالے اور نئی کتابیں لکھنے سے خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہو سکے گا۔“ نیز فرمایا: - ” جب تک ان رُجحانات کا ازالہ نہیں کیا جائے گا لوگ حقیقی اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے پہلے احمدیت یعنی اسلام سے ذہنی مناسبت پیدا کرنی ضروری ہے۔اس کے بغیر عقائد کی پرانی بحث کارگر ثابت نہ ہو سکے گی۔“ اس کے علاوہ حضور نے احباب جماعت کو الفضل“ اور دیگر علمی رسائل کے لئے چھوٹے چھوٹے مضامین کی شکل میں اپنے خیالات کو عام کرنے کی طرف بھی خاص طور پر توجہ دلائی۔تحریک جدید کے کام کی اہمیت ۲۴ مارچ ۱۹۵۱ء کو مشاورت کے دوسرے اجلاس میں تحریک جدید کا بجٹ پیش کیا گیا۔بعض ممبران نے اپنی آراء پیش کرتے ہوئے اسے خوش کن بجٹ قرار دیا۔رائے شماری کے بعد احباب سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: - تحریک کا بجٹ گوخوش کن ہے لیکن مالی لحاظ سے تحریک جدید صدر انجمن احمدیہ کے مقابلے میں زیادہ خطر ناک حالات میں سے گزر رہی ہے۔پچھلے دو سال سے چندوں کی وصولی میں کمی واقع ہوگئی ہے حالانکہ کام کی اہمیت اور اس کے خوش کن نتائج کے پیش نظر لوگوں میں قربانی کا جوش بڑھ جانا چاہئے تھا۔یہ تحریک جدید کی ہی برکت ہے کہ آج مختلف ممالک کے لوگ علم دین حاصل کرنے کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں اور اس وقت بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔طلباء کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔علاوہ ازیں بیرونی ممالک