خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 458
خطابات شوری جلد سوم ۴۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء کے احمدی بڑھ چڑھ کر خدمتِ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر رہے ہیں۔امریکہ کے رشید احمد زندگی وقف کرنے کے بعد ایک عرصہ سے ربوہ میں مقیم ہیں۔ان کے علاوہ امریکہ سے چار اور نو جوانوں کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔اُنہوں نے بھی خدمت اسلام کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ادھر دُنیوی لحاظ سے بھی بیرونی جماعتیں بفضلہ تعالیٰ ترقی کر رہی ہیں۔گولڈ کوسٹ کے حالیہ انتخابات میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تین احمدی کامیاب ہو کر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔یہ چیز میری سمجھ سے باہر ہے کہ تحریک جدید کی اتنی اہمیت کے باوجود احباب نے چندوں کی ادائیگی میں غفلت سے کیوں کام لیا ہے۔شاید لوگوں نے سمجھ لیا کہ بیرونی ممالک میں مشن قائم کر کے ہم نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا ہے اور ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے ہیں حالانکہ میدانِ تبلیغ کی وسعت کے مقابلے میں ہماری مساعی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ہمارے مبلغ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔اگر صحیح معنوں میں تبلیغ کی جائے تو ہر تین سو آدمیوں پر ایک مبلغ ہونا چاہئے۔یاد رکھو تبلیغ کا حق اس وقت ہی ادا ہو گا جب ہر ایک فرد تک اسلام و احمدیت کا پیغام پہنچ جائے گا اور اس پر صداقت واضح کر دی جائے گی۔دُنیا کی موجودہ آبادی کو دیکھتے ہوئے لاکھوں لاکھ مبلغین اس کام پر متعین کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے بالمقابل ہم نے صرف چند سو مبلغ دُنیا میں پھیلا رکھے ہیں جو آٹے میں نمک کے برابر بھی قرار نہیں دیئے جا سکتے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دوستوں نے اس تحریک کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور اس ضمن میں اپنی ذمہ واریوں کا کماحقہ احساس نہیں کیا۔اگر وہ اس کی اہمیت کو سمجھ لیتے تو اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے اور انہیں تن کے کپڑے بھی بیچ ڈالنے سے دریغ نہ ہوتا۔بیرونی ممالک میں احمدیت کی روز افزوں ترقی اِس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ہم وہاں اپنی مساعی کو اور زیادہ تیز کر کے خدائی منشاء کو پورا کریں۔ہونا یہ چاہئے کہ تحریک کا بجٹ منظور ہونے کے بعد اب کوئی فردا ایسا نہ رہے کہ جو تحریک جدید میں حصہ نہ لے اور دوسروں سے بھی وعدہ پورا کرانے کا بیڑا نہ اُٹھائے۔احباب جماعت کا فرض ہے کہ وہ اُس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک کہ تمام وعدہ کرنے والوں سے اُن کا وعدہ پورا نہ کروالیں۔“