خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 30

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء اور مدرسہ میں حساب کے استاد تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شکایت کی کہ یہ حساب میں بہت کمزور ہے اور پھر حساب کی گھنٹیوں میں اکثر غیر حاضر بھی رہتا ہے۔میری صحت اُس وقت ایسی ہی تھی کہ میں زیادہ توجہ بھی نہ کر سکتا تھا اور آنکھیں بھی کمزور تھیں۔بورڈ کی طرف زیادہ دیر تک نہ دیکھ سکتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شکایت سن کر فرمایا کہ ہم نے اس سے کوئی وکالت تو کروانی نہیں آپ پڑھا دیا کریں جتنا آ جائے گا اتنا ہی سہی۔یہ بات سن کر میں نے حساب کی گھنٹیوں میں جانا ہی بند کر دیا۔اس کے بعد مولوی یار محمد صاحب حساب کے ماسٹر مقرر ہوئے۔وہ سکول کے وقت کے علاوہ میرے پاس آجاتے اور کہتے تمہاری آنکھیں دُکھتی ہیں تم نہ دیکھو میں زبانی حساب پڑھاتا ہوں۔اسی طرح انہوں نے مجھے کچھ حساب سکھا دیا۔ان مولوی صاحب کے دماغ میں کچھ نقص تھا۔وہ خیال کرنے لگے کہ محمدی بیگم میں ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب مسجد میں نماز کے لئے تشریف لاتے تو وہ حضور کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے کوشش کر کے کھڑے ہو جاتے۔اور جیسے میاں بیوی میں محبت و پیار کا اظہار ہوتا ہے حضور کے کبھی پیر کو کبھی ہاتھ کو پکڑتے۔حضور علیہ السلام کو اس سے تکلیف ہوتی تھی اور نماز میں بھی خلل آتا تھا۔آپ نے بہت انہیں روکا مگر وہ نہ رُکے۔آخر آپ نے بعض دوستوں سے بیان کیا۔اُن دنوں سید ناصر شاہ صاحب مرحوم اور بعض اور دوست یہاں آئے ہوئے تھے۔انہوں نے باہم فیصلہ کیا کہ ہم پہرہ دیا کریں گے اور مولوی صاحب کو حضور کے پاس نہ آنے دیں گے۔لیکن جس شخص کے دماغ میں نقص ہو اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔یہ لوگ اگر بارہ گھنٹے بیٹھتے تو مولوی صاحب چودہ گھنٹے۔اور اگر یہ ہیں گھنٹے بیٹھیں تو وہ چوبیس گھنٹے بیٹھے رہتے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں حکم دیا کہ قادیان سے چلے جائیں اور حکم لکھ کر مجھے ہی دیا کہ ان کو پہنچا دوں۔چنانچہ میں یہ حکم لے کر ان کے پاس گیا۔انہوں نے پڑھ کر جواب میں لکھا کہ میں مرزا غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضی کو نہیں جانتا اور نہ میں نے ان کی بیعت کی ہوئی ہے۔میں نے بیعت مسیح موعود کی کی ہوئی ہے اور ان کے حکم کو مان سکتا ہوں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں لکھا کہ میں مسیح موعود کی حیثیت سے آپ کو حکم دیتا ہوں کہ یہاں سے چلے جائیں۔آخر وہ چلے گئے۔یہاں سے وہ شاید جالندھر گئے