خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 31

خطابات شوری جلد سوم ۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء وہاں سے لاہور پہنچے۔لاہور سے لدھیانہ اور پھر ہوشیار پور گئے اور ۴۸ یا ۷۲ گھنٹہ میں یہ تمام سفر کر کے پھر واپس یہاں پہنچ گئے۔اور کہا کہ میں تو بہ کرتا ہوں آئندہ میں کوئی ایسی حرکت نہ کروں گا لیکن میں قادیان سے باہر نہیں رہ سکتا۔اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہرہ کا حکم کر سکتے تھے مگر آپ نے جماعت کو ایسا حکم نہیں دیا۔کیونکہ بوجہ اس سے آپ کی ذات کا تعلق ہونے کے آپ نے شرم محسوس کی۔گو یہ حفاظت کا سوال ایک حیثیت - ذاتی نہیں بھی مگر پھر بھی میری فطرت ایسی ہے کہ میں شرم محسوس کرتا ہوں کہ میری موجودگی میں اس پر گفتگو ہو۔اس لئے میں نے کہا ہے کہ یہ میرے چلے جانے کے بعد پیش ہو۔“ چنانچہ حضور انور کے تشریف لے جانے کے بعد حفاظتِ خاص کی تجویز کی بابت درج ذیل کا رروائی ہوئی۔ناظر صاحب امور عامہ:۔سب کمیٹی کی رپورٹ ہے کہ حضرت خلیفۃ امسیح کی حفاظت کے لئے بالمقطع ۳۰۰۰ روپیہ منظور کیا جائے۔تفصیلی انتظامات نظارت امور عامہ پر چھوڑ دیئے جائیں۔اس وقت دو کارکنوں کی منظوری ہے ایک کے لئے ۱۵ روپیہ کی اور دوسرے کے لئے ۲۰ روپیہ کی گنجائش ہے۔نظارت نے مقامی طور پر اور اخبارات میں اعلان کئے۔اس پر صرف ایک کارکن ملا جس کو ۱۵ روپیہ ماہانہ پر رکھ لیا گیا۔بوجہ کم تنخواہ کے دوسرا کا رکن مہیا نہیں ہوا۔اس محافظ کا فرض ہے کہ وہ سفر میں اور حضر میں ہر وقت حضور کی معیت میں رہے۔اس کے علاوہ ایک مستقل محافظ ہے جو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے ماتحت ہے۔۲ نیشنل لیگ کور کے ماتحت ایک آنریری انتظام بھی ہے جب حضور باہر تشریف لے جار ہے ہوں تو کور والوں کو اطلاع کر دی جاتی ہے۔۔اس کے علاوہ قادیان کے محلہ جات سے باری باری لوگ آتے ہیں جو دن رات مسجد مبارک میں حفاظت کا انتظام کرتے ہیں۔۴۔کار خاص کا انتظام بھی ہے۔ان کا بھی فرض ہے کہ حضور جب باہر تشریف لے جائیں تو ایسے موقعوں پر ڈیوٹی پر رہیں۔۵۔مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ خدام الاحمدیہ کے ماتحت بھی حفاظت کا انتظام ہے جو