خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 29
خطابات شوری جلد سوم ۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کہ اس طرح احمدی لڑکیوں کے لئے رشتوں کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔جو دوست چاہتے ہیں کہ یہ پابندی قائم رہے۔جسے ضرورت پیش آئے وہ اجازت لے کر کرے اور دس سال تک یہ پابندی مسلسل رہے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۱۰ا دوست کھڑے ہوئے۔پانچ سال کے لئے یہ پابندی لگانے کے حق میں ۱۷ اور ہر سال اس کے پیش ہونے کے حق میں صرف ۶ دوستوں نے رائے دی۔اور موجودہ قاعدہ یعنی تین سال کے بعد اسے دوبارہ پیش کرنے کے حق میں ۱۹۴ دوستوں نے رائے دی۔حضور نے فرمایا : - آخری تجویز یعنی موجودہ قاعدہ کے حق میں ۱۹۴ دوست ہیں۔یہ تعداد پہلی تین تجاویز کے حق میں آراء کے مجموعہ سے بھی زیادہ ہے۔وہ گل ۱۳۳ ہیں اور یہ ۱۹۴۔اس لئے میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔“ نظارت امور عامہ کی دوسری تجویز حفاظت خاص سے متعلق تھی۔سب کمیٹی حفاظت خاص نے تجویز کی تھی کہ حضرت خلیفہ اسیح کی حفاظت کے لئے کم از کم تین ہزار روپیہ ماہوار خرچ منظور کیا جائے۔اور تفصیلی انتظام محکمہ متعلقہ پر چھوڑ دیا جائے۔“ یہ تجویز چونکہ حضور کی ذات سے متعلق تھی اس لئے آپ نے فرمایا کہ:- اس پر گفتگو کے دوران میں میں مجلس میں موجود نہیں رہنا چاہتا۔66 قبل میں چلا جاؤں گا اور جماعت جو فیصلہ چاہے اس بارہ میں کر دے۔“ اس پر ایک دوست نے عرض کیا کہ یہ حضور کا ذاتی سوال نہیں کہلا سکتا کیونکہ یہ خلیفہ کی حفاظت کے بارہ میں ہے۔حضور نے فرمایا : - در گو یہ سوال اس رنگ میں ذاتی نہیں مگر پھر بھی اس کا تعلق میری ذات سے ہے۔اور میں شرم محسوس کرتا ہوں کہ جس مجلس میں اس پر گفتگو ہو اس میں میں موجود ہوں۔دراصل بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں ذات سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔اس ضمن میں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا ایک واقعہ یاد آیا ہے۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب جو پہلے غیر مبایعین میں سے تھے اب خدا کے فضل سے بیعت کر چکے ہیں۔حساب اچھا جانتے تھے