خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 404
خطابات شوری جلد سو فیصلہ وو ۴۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء میں کثرت رائے کے حق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ کارپوریشن، میونسپل کمیٹی ، کنٹونمنٹ بورڈ، ٹاؤن کمیٹی ، نوٹیفائیڈ ایریا کمیٹی اور پنچایت کے انتخابات میں پہلا دستور جاری رہے یعنی یہ فیصلہ مقامی جماعتیں اپنے اپنے طور پر کریں کہ کس حلقہ میں کس امیدوار کی امداد کی جائے یہ فیصلہ جماعت کے ووٹران اپنے اپنے حلقہ انتخابات میں اپنے امیر یا صدر کی نگرانی میں کریں گے اور ایسا فیصلہ قطعی ہوگا“۔دوسری تجویز سب کمیٹی نے دوسری تجویز یہ پیش کی تھی کہ:۔ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتخابات میں یہ فیصلہ کہ کس حلقہ میں کس امیدوار کی مدد کی جائے ضلع کی امارت بہ پابندی مشورہ اُن انجمن ہائے مقامی کے جو اس ضلع میں ہوں کرے گی اور جن اضلاع میں اس وقت تک ضلع وار نظام قائم نہیں ہوا وہاں ضلع کے صدر مقام کی انجمن کا امیر یا صدر یہ پابندی مشورہ اُن انجمن ہائے مقامی کے جو اس ضلع میں ہوں فیصلہ کرے گا اور ایسا فیصلہ قطعی ہوگا“۔دو یہ بھی وہی فیصلہ ہے جو پہلے سے جاری ہے صرف اتنا فرق ہے کہ پہلے اس کے ، متعلق حلقہ حلقہ فیصلہ کیا کرتا تھا اب ضلع کو اکٹھا کیا گیا ہے۔اگر کوئی دوست اس بارہ میں کچھ کہنا چاہتے ہوں تو وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ بعض نمائندگان کے اظہارِ خیال کے بعد حضور نے ڈسٹرکٹ بورڈوں کا انتخاب فرمایا:۔سب کمیٹی کی تجویز اس وقت دوستوں کے سامنے پیش ہے اس بارہ میں ایک سوال ایک ایسی جگہ سے اُٹھایا گیا ہے جہاں حالات یہ ہیں کہ ارد گر د تو بڑی بڑی جماعتیں ہیں اور ضلع میں چھوٹی سی جماعت ہے یہ حالت عام مقامات پر نہیں لیکن بعض جگہ یہ حالات موجود ہیں یعنی بعض اضلاع ایسے ہیں جن کے صدر مقام میں جماعت نہیں یا نہایت قلیل جماعت ہے لیکن اُن اضلاع کے بعض علاقوں میں بڑی بڑی جماعتیں موجود ہیں جو اثر اور رسوخ رکھنے والی ہیں۔مولوی عبدالباقی صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ ایسے مقامات پر ضلع کے صدر مقام کی انجمن کا امیر یا صدر غلط نتیجہ پر پہنچے گا کیونکہ اُس کا ذاتی انٹرسٹ اُس میں کم ہوگا یہ امر کہ امیر یا صدر جماعتوں کو بلائے گا اور وہ صدر مقام میں مشورہ کے لئے پہنچ