خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 405
خطابات شوری جلد سو ۴۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء جائیں گی یہ بھی کوئی موثر چیز نہیں اور یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ لوگ وہاں پہنچیں گے یا نہیں پہنچیں گے۔ابھی شکایت کی گئی ہے کہ امیر کے انتخاب کے موقع پر بھی مقامی جماعت کے لوگ پوری طرح نہیں آتے۔جب امارت کے انتخاب کے موقع پر بھی بعض لوگ آنے میں سستی کرتے ہیں تو اس قسم کے مشورہ کے لئے صدر مقام میں اردگرد کی جماعتوں کے تمام افراد کس طرح پہنچ سکتے ہیں۔جہاں ضلع وار تنظیم مکمل ہو چکی ہے وہاں تو ضلع کے لوگ کچھ عرصہ کے بعد صدر مقام میں آنے جانے کے عادی ہو جاتے ہیں کیونکہ جماعتوں کے افراد کو وہاں اپنی مختلف ضروریات اور جھگڑوں وغیرہ کے تصفیہ کے لئے جانا پڑتا ہے لیکن جہاں ضلع وار تنظیم مکمل نہیں وہاں کے افراد آسانی سے وہاں نہیں پہنچ سکتے اس لئے ہمیں اُن کی مشکلات کا احساس رکھنا چاہیے۔مولوی عبدالباقی صاحب ہماری سٹیٹیوں پر کام کرتے ہیں اور انہوں نے در حقیقت اپنے علاقہ کی مشکلات ہی بیان کی ہیں وہاں کنری میں ہماری جماعت کافی تعداد میں پائی جاتی ہے۔دُکانوں میں بھی اچھی خاصی تعداد ہمارے احمدی دُکانداروں کی ہے اور جننگ فیکٹری کی وجہ سے مزدور طبقہ پر بھی زیادہ تر احمدیوں کا ہی قبضہ ہے، پیشہ وروں میں بھی ایک اچھا طبقہ ہماری جماعت کا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ کنری کے حلقہ میں ہماری جماعت کے افراد پانچ سو کے قریب ہوں گے لیکن میر پور جوضلع ہے وہاں ہماری ساری جماعت میں چالیس افراد پر مشتمل ہے۔اسی قسم کے حالات بعض اور جگہوں پر بھی ہو سکتے ہیں پس اگر ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتخابات میں ضلع کی امارت یا ضلع کے صدر مقام کی انجمن کا امیر یا صدر فیصلہ کرے گا تو خواہ وہ مشورہ لے کر ہی فیصلہ کرے بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتخابات میں شہروں والوں کو اتنی دلچسپی نہیں ہوتی جتنی گاؤں والوں کو ہوتی ہے اس لئے اُن کا فیصلہ لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکے گا۔بہر حال یہ تجویز دوستوں کے سامنے پیش ہے جو دوست سب کمیٹی کی تجویز کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۱۶۵ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:۔اب جو دوست اس تجویز کے حق میں ہوں کہ جس طرح پہلے حلقہ حلقہ فیصلہ کیا کرتا تھا اسی طرح اب بھی ہو۔وہ کھڑے ہو جائیں۔“