خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 403
خطابات شوری جلد سو ۴۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء غیر لیگی کو ووٹ چلا گیا تو اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے لیگ والوں نے ہماری جماعت کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ جماعت احمدیہ نے غیر لیگیوں کی مدد کی ہے۔۸۰ فیصدی ووٹ جو اُنہیں ہماری وجہ سے حاصل ہوا تھا اُس کو تو وہ بھول گئے اور چند ووٹ جو غیر لیگیوں کی طرف گئے تھے وہ انہوں نے یاد رکھے اور ہماری جماعت کی مخالفت شروع کر دی اس سے ہم نے سمجھا کہ فائدہ کیا ہے کہ خدمت بھی کرو اور بدنامی بھی مول لو۔بہتر یہی ہے کہ لوگوں کو آزاد کر دیا جائے کہ وہ جس کو چاہیں مشورہ دیں بے شک اس سے مقامی جماعتوں کے افراد سے لوگوں کی لڑائی ہو جائے گی مگر ساری جماعت پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔دوسرے اس میں یہ بھی نقص تھا کہ بعض دفعہ مثلاً سیالکوٹ کے لوگوں کو ہم کہتے کہ فلاں کو ووٹ دو اور وہ اسے ووٹ دے دیتے۔جب وہ ووٹ لے لیتا تو بجائے اس کے کہ جماعت کے احسان کو یادرکھتا یہ کہنا شروع کر دیتا کہ اس میں آپ نے مجھ پر کیا احسان کیا ہے مرکز نے آپ کو حکم دیا اور آپ نے مان لیا۔گویا مرکز کے حکم کا پابند ہونے کی وجہ سے سے مقامی لوگ کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے تھے ان وجوہ کی بناء پر یہ تجویز کیا گیا ہے کہ آئندہ اس پابندی کو اُڑا دیا جائے اور ہر حلقہ انتخاب کی جماعتیں باہمی مشورہ کے ساتھ جو فیصلہ چاہیں کریں چنانچہ سب کمیٹی نے اس وقت تین تجاویز پیش کی ہیں پہلی تجویز تو کارپوریشن ، میونسپل کمیٹی ، کنٹونمنٹ بورڈ ، ٹاؤن کمیٹی ، نوٹیفائیڈ ایریا کمیٹی اور پنچایت کے انتخابات کے متعلق ہے۔پہلا دستور ہمارا یہ تھا کہ اس بارہ میں۔یہ فیصلہ مقامی جماعتیں اپنے اپنے طور پر کریں کہ کس حلقہ میں کس امیدوار کی مدد کی جائے۔یہ فیصلہ جماعت کے دوران اپنے اپنے حلقہ انتخابات میں اپنے امیر یا صدر کی نگرانی میں کریں گے اور ایسا فیصلہ قطعی ہو گا “۔سب کمیٹی نے اس دستور کو قائم رکھنے کے حق میں مشورہ دیا ہے اب دوستوں کے سامنے یہ تجویز پیش ہے اگر کوئی دوست اس کے خلاف کچھ کہنا چاہتے ہوں تو وہ اپنا نام لکھوا دیں۔کسی دوست نے اپنا نام نہ لکھوایا۔حضور نے فرمایا :- اب جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۳۴۳ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :-