خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 384

خطابات شوری جلد سوم ۳۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء دوسروں کے لئے بھی مشکلات ہیں مگر ہماری جماعت کے لئے سب سے زیادہ مشکل ہے۔دوسرے لوگ بکھر گئے تو بکھر گئے لیکن ہماری جماعت ایک منظم جماعت ہے جب تک وہ کہیں منظم ہو کر نہ بیٹھے گی اُس وقت تک وہ کوئی کام نہیں کر سکے گی۔یہ کہنا کہ خدا اس سلسلہ کو چلائے گا ٹھیک ہے مگر تم اپنے باقی کاموں میں صرف یہ نہیں دیکھتے کہ خداوہ کام کرتا ہے یا نہیں بلکہ خود بھی اُن کے لئے کوشش کرتے ہو۔خدا ہی کھانا کھلاتا ہے مگر تم خود کھانا پکاتے ہو، خدا ہی کپڑے پہناتا ہے مگر تم کپڑے سیتے ہو، پس صرف اس بات پر مطمئن ہو جانا کہ خدا تعالیٰ اس سلسلہ کو قائم رکھے گا اور مادی تدابیر سے غافل ہو جانا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہوسکتا۔میں نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے جماعت میں یہ تحریک کی تھی کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے کشمیر کے معاملہ میں لڑائی کا فن سیکھنے کا ایک نہایت اعلیٰ درجے کا موقع عطا فرمایا ہے۔اگر پاکستانی احمدی وہاں کثرت کے ساتھ جائیں تو آئندہ انہیں اپنی طاقتوں کے صحیح استعمال کا بہترین موقع مل سکتا ہے۔میری اس تحریک پر بہت سے دوست گئے اُنہوں نے فوجی ٹریننگ میں حصہ لیا، نیک نامیاں حاصل کیں، دوسروں کے لئے اچھا نمونہ قائم کیا اور ہمیں امید پیدا ہوئی کہ آئندہ پیش آنے والے خطرات میں وہ اپنے ملک اور قوم کی اعلیٰ درجہ کی خدمت سرانجام دے سکیں گے اور یہ بات ایسی نہیں تھی کہ میں نے تم کو کہا ہو اور خود اس پر عمل نہ کیا ہو۔میرے قریباً سارے لڑکے سوائے اس لڑکے کے جو ہندوستان میں ہے کیونکہ وہ ہندوستان کا باشندہ ہے اور اس کے لئے اس تحریک میں حصہ لینا ہمارے مسلک اور طریق کے مطابق ناجائز ہے، اسے بہر حال ہندوستان کی حکومت کا وفادار رہنا چاہئے۔یا سوائے ایک چھوٹے بچے کے جو بالغ نہیں باقی سب کے سب وہاں سے ہو کر آئے ہیں۔پس یہ نہیں کہ دوستوں کو میں نے کوئی ایسی بات کہی ہو جس سے میں نے اپنوں کو بچایا ہو بلکہ میرے بعض بچے وہاں اُس وقت کام کر کے آئے ہیں جب کہ صرف رات کے وقت وہ سفر کر سکتے تھے۔دن کو گولہ باری ہوتی رہتی تھی ، رستے دشوار گزار تھے اور سامان وغیرہ بھی اپنی پیٹھوں پر لاد کر لے جانا پڑتا تھا۔اب تو ٹرک آنے جانے لگ گئے ہیں، سڑکیں بن گئی ہیں اور انتظام زیادہ عمدہ ہو گیا ہے۔