خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 383
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اب لمبا ہو گیا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ جماعت کے سامنے یہ بات آ جائے اور کمیٹی حلفیہ بیان لے کر فیصلہ کرے۔اگر انجمن نے ہی سلسلہ کی اغراض کے لئے یہ زمین خریدی تھی تو یہ کیسی تقویٰ کے خلاف بات ہے کہ برابر چارسال سے میرے کہنے کے باوجود اُس نے یہ رقم تحریک کے خزانہ کو ادا نہیں کی۔اس کی بڑی وجہ تو غالباً یہی ہے کہ قادیان کی جائدادیں انجمن کے ہاتھ سے چلی گئی ہیں اور اب اُسے اُس زمین کے معاملہ سے کوئی دلچسپی نہیں رہی لیکن بہر حال اس کا فیصلہ ہونا ضروری ہے اور اس لئے میں نے یہ بات مجلس میں پیش کی ہے۔احمدیوں کو فوج میں بھرتی کی تحریک دوسری بات جو میں جماعت سے کہنا چاہتا ہوں وہ بھی ایسی ہے کہ اب اُس کے متعلق دور میں دوٹوک فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک زمانہ ایسا تھا کہ غیر قوم ہم پر حاکم تھی اور وہ غیر قوم امن پسند تھی مذہبی معاملات میں وہ کسی قسم کا دخل نہیں دیتی تھی۔اس کے متعلق شریعت کا حکم یہی تھا کہ اُس کے ساتھ جہاد جائز نہیں اور چونکہ حکومت کی باگ اُن لوگوں کے ہاتھ میں تھی جو غیر مسلم تھے اور جن کا براہِ راست اسلامی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا اس لئے لازمی طور پر اُن کے توسط سے بھی جہاد کا کوئی پہلو نہیں نکلتا تھا اور ہماری تعلیم یہی ہوتی تھی کہ امن سے رہو۔لیکن اس کے بعد زمانہ بدل گیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کے ایک حصہ میں ایسے لوگوں کو حکومت دے دی جن میں خواہ کتنی بھی کمزوریاں ہوں ، جن کی عملی حالت خواہ کتنی ہی گری ہوئی ہو بہر حال وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ آپ پر درود پڑھتے ہیں۔وہ نماز کے مخالف نہیں ، وہ قرآن کے مخالف نہیں ، وہ قرآن کریم کی عزت کرتے ہیں، چاہے وہ اُسے اُٹھا کر جھوٹی قسم ہی کیوں نہ کھا لیں۔بہر حال پہلا زمانہ گیا اور وہ زمانہ آ گیا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث صادق آتی ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ وَ عِرْضِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ جو شخص اپنے مال اور اپنی عزت کے بچاؤ کے لئے مارا جاتا ہے وہ شہید ہوتا ہے بلکہ صرف مال اور عزت کا ہی سوال نہیں حالات اس قسم کے ہیں کہ اگر کوئی خرابی پیدا ہوئی اور لڑائی پر نوبت پہنچ گئی تو وہ تباہی جو مشرقی پنجاب میں آئی تھی شاید اب وہ ایران کی سرحدوں تک بلکہ اس سے بھی آگے نکل جائے۔