خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 24

خطابات شوری جلد سوم ۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء اب میں خدا تعالیٰ کے سامنے اُس کے دین کی اشاعت اور اسلام کے احیاء کے لئے ذاتی طور پر ذمہ وار ہوں اس لئے اب مجھے جماعت کے مشوروں کی زیادہ پرواہ نہیں ہوگی۔ اگر کسی معاملہ میں جماعت کی شدید رائے کو بھی رڈ کرنا پڑا تو میں اُسے کھلے طور پر رد کر دوں گا اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کروں گا کہ یہ وہ مشورہ ہے جو جماعت نے متفقہ طور پر دیا ہے۔ اب خدا کے سامنے میں صرف اپنے آپ کو ذم آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کے الہامات اور اس کی تائید کی روشنی میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا منشاء تھا یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی تعلیم کو لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے ۔ پس آئندہ میں صرف اُس آواز کوسنوں گا جو خدا تعالیٰ کی ہو گی دوسرا کوئی لفظ میرے کان برداشت نہیں کر سکتے ۔ میرا فرض ہے کہ اب میں اُس کی طرف بڑھتا چلا جاؤں اور خواہ میرے سامنے کوئی بات کیسی ہی خوبصورت شکل میں پیش کی جائے اس کی پرواہ نہ کروں جبکہ میرا دل یہ گواہی دے رہا ہو کہ میں وہی کام کر رہا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کام تھا اور میں وہی کام کر رہا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کام تھا ۔ در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میری زبان پر تصرف دینے کے معنے ہی یہی تھے کہ تم اس آواز کو سنو جو براہ راست رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں کہیں اور تم اس آواز کو سنو جو براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تمہیں کہیں ۔ کوئی شخص اس کے یہ معنے نہ سمجھے کہ با وجود خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کی نصوص صریحہ کے میں کوئی ایسا کام بھی کر سکتا ہوں جو اُس کی تعلیم کے خلاف ہو۔ میرے اس بیان کے یہ معنی نہیں ہیں بلکہ میرے قول کا مفہوم یہ ہے کہ تمام نصوص صریحہ سچائی کی طرف جاتی ہیں اور غلطی کی طرف وہ بات جاتی ہے جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف ہوتی ہے۔ پس یہ نہیں کہ جو کچھ میں کہوں گا وہ خدا اور اس کے رسول کے منشاء کے خلاف ہو سکتا ہے بلکہ جو کچھ میں کہوں گا وہی خدا اور اس کے رسول کے منشاء کے مطابق ہوگا اور میرے مقابلہ میں جو کچھ دوسرا سمجھے گا وہ خدا اور اس کے رسول کے منشاء کے خلاف ہو گا مگر یہ چیزیں ساری کی ساری قیاسی اور وہمی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنی پاک جماعت کو ہمیشہ ایسی ٹھوکروں سے بچا لیتا ہے